کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 45
بریلوی علم کلام: ہم نے بریلوی علم کے تین اصول سمجھے ہیں۔ اول۔ مخالف کوپیٹ بھر کے گالیاں دینا ۔ دوم۔ جہاں تک ممکن ہو اس پر جھوٹی تہمتیں تراشے جانا تاکہ بچارا الزامات کا جواب دیتے ہی تھک جائے۔ سوم۔ جس بدعت کی ترویج مقصود ہو اس کے ساتھ"شریف" کے لفظ کا اضافہ ، گیارہویں شریف ، میلاد شریف چہلم شریف جوبستی بدعت اور شرک کا مرکز ہو اس کےساتھ"شریف" لگادو ،جتنا بڑا پاپی اور مہامشرک ہو اس کے نام کے ساتھ جھوٹے خطابات کا ایک طویل سلسلہ ضم کردو عوام حق سے نفرت کرنے لگیں گے بدعۃ اور اہل بدعت کو پسند کرنے لگیں گے۔ اخوان دیوبند حضرات دیوبند یہی دوبیماریوں سے قریباً محفوظ ہیں گالیاں نہیں دیتے جھوٹ نہیں بولتے لیکن اکابر کے محاسن میں غلط مبالغہ اور بے ضرورت غلو، اساتذہ کی تقدیس بانداز عظمت یہاں بھی موجود ہے اور بدرجہ اتم آپ نے مولانا قاسمؒ کا اقتباس پڑھ لیا اور اب مبالغہ آمیزی ملاحظہ فرمایئے۔ آب حیات وہ کتاب ہے کہ حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ نے فرمایا میں نے یہ کتاب استاد رحمہ اللہ علیہ سے درساً درساً پڑھی تب مصنف کے مدارک پر مطلع ہوا ہوں میں نے مولانا حبیب الرحمان صاحب رحمہ اللہ علیہ سے اس واقعہ کا حوالہ دے کر عرض کیا تھا مجھے یہ کتاب آپ پڑھا دیں تو انہوں نے بایں ذہن وذکا فرمایا کہ یہ میرے بس کی بات نہیں تو ایسی کتاب ہم جیسے نالائقوں کے بس کی بات کیا ہوسکتی ہے۔