کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 46
آپ نے اقتباس ملاحظہ فرمالیا اردو میں ہے اس میں کوئی اخلاق بھی اور گہرائی بھی نہیں لیکن میں مولانا طیب صاحب کی یہ غلو آمیزی پہلے دیکھ لیتا تو شائد میں بھی آنکھیں ملنے لگتا کہ شائد یہاں کوئی شیر سورہا ہو روایات کی ثقاہت میں شبہ نہیں لیکن جب اسے واقع پر عرض کیا جائے تو ذہن میں کشمکش سی پیداہو جاتی ہے کہ یہ اکابر کیا فرما رہے ہیں ممکن ہے کوئی مقام کتاب دقیق ہو جس کے لیے شیخ الہند نے استاد محترم کی طرف رجوع فرمایا ہو مگر پوری کتاب درساً پڑھنا بڑی عجیب بات ہے۔ ہماری رائے تو یہ ہے کہ یہ بریلوی علم کلام کا ۱/۳ حصہ ہے جو حضرات دیوبند کو ورثہ میں ملا ہے اور اسی مبالغہ آمیزی کی بنا پر یہ غلط نظر یہ کہ انبیاء علیہ السلام کی حیات دنیوی ہے۔" دیوبندی مکتب خیال میں چل نکلا ہے ہمارے دیوبندی نوجوان اساتذہ کے ان ارشادات کو چھوئی موئی سمجھتے ہیں اور ان کے حسن وقبح کا تجزیہ کرنے کی جرأت نہیں کرتے فبشر عبادی الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ اولئک الذین ھداھم اللہ، واو لئک ھم اولو الالباب)۳۹:۱۸) احباب کرام! علم ودانش یکسر اس سے مختلف ہے اساتذہ کا احترام دوسری چیز ہے اور علم ودانش سے صرف نظر بالکل دوسرا امر، اس میں حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ان کےتلامذہ کرام کا اسوہ آپ کے سامنے ہے کہ احترام ار اختلاف بیک وقت چل رہے ہیں، نہ اختلاف اظہار حق سے مانع ہے اور نہ اظہار حق ادب واحترام کی راہ میں حائل اظہار حق کے جذبہ کو ادب واحترام میں اس طرح سمودیا گیا ہے کہ سینکڑوں مسائل ہیں اختلاف کے باوجود استاد کی جبین احترام پر شکن کے اثار تک پیدا نہیں ہوتے ہیں اور تلامذہ کےمزاج میں ادنی ٰ ساتکدر رونما ہوتا ہے نہ ہی طرفین میں مبالغہ آمیز تماوح کی کبھی نوبت آئی۔ رحمھم اللہ ورمی عنھم۔ اولئک اٰبائی فجئنی بمثلھم اذاجمعتنا یا جریر الجامع اس کے بعد مولانا طیب صاحب کا ایک طویل خط مولانا اخلاق حسین صاحب نے نقل فرمایا ہے اس پر تفصیلی گفتگو کی جائے تو ایک غیر مفید بحث میں ناظرین کا وقت ضائع ہوگا حقیقت یہ ہے کہ حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کا ارشاد گرامی خصوص الحکم یافتوحات کے انداز کی ایک مستقل تقریر نانظریہ ہے جس سے حدیث کے الفاظ کی روشنی میں حدیث کا حل نہیں ہوتا پھر حضرت مولانا طیب صاحب