کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 48
ہے ان دونوں میں تضاد نہیں ، اہل تحقیق اور ہمارے اکابر کی بھی یہی راہ ہے۔ قاری صاحب نے استغراق کی بھی کئی صورتیں بنادی ہیں فی ذات صلی اللہ علیہ وسلم استغراق فی ارواح الامۃ، استغراق فی ذات اللہ۔ روح کا معاملہ جب ہمارے فہم وفراست سے بالا ہے تو پھر ان تکلفات سے کوئی فائدہ نہیں ظاہر الفاظ سے فرار آپ ایسے حدیث کے ماننے والوں کے لیے قطعاً مناسب نہیں یہ ابن عربی اور ابن سعید کے انداز کا کشفی تصوف امام احمد اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے زہد وورع کے مطابق نہیں کہا جاسکتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔حضرت قاری صاحب کا پورا خط خطابی انداز کا ہے یہی حال مولانا محمد قاسم صاحب مرحوم کے اقتباس کا ہے۔ اگر پاکستان میں اہل بدعت ان تمویہات اور الفاظ سے غلط فائدہ اٹھا کر اہل توحید کو دق نہ کرتے ان تلخ گزارشات کی ضرورت نہ تھی ہم ودر افتادہ مساکین پر آپ حضرات کسی اچھے طریق سے کرم فرمائیں تو ہم ممنون ہوں گے جو انداز اب تک اختیار فرمایا گیا ہے قایل شکایت ہے۔ شکوت عما الشکوی لمثلی عادۃ ولکن یفیض الکاس عند امتلا ءھاہم چاہتے ہیں آپ حضرات سے توحید وسنت کی بات سنیں ائمہ سلف اور ان کے اعتصام بالسنۃ کے قصے سنیں یہ جنس جودارالعلوم لا رہا ہے پاکستان میں ضرورت سے زیادہ موجود ہے آپ حضرات کیوں تکلیف فرماتے ہیں مولانا خیر محمد صاحب کی رضا مندی کےلیے کوئی اور راہ اختیار فرمایئے۔ دور دستاں رابہ نعمت یاد رکردن ہمت است ورنہ ہر نخلے بپائے خود ثمرمے افگند قاری صاحب کے مکتوب فرامی کے بہت حصوں پر میں نے گزارشات نہیں کیں ورنہ اس پر بہت کچھ کہا جاسکتا ہے۔ وصلی اللہ علیٰ سید نا محمد واٰلہ وصحبہ وسلم تسلیماً کثیراً کثیراً ط(رحیق)