کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 50
دیوبند کے علمی اقتدار اور حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی رفعت مقام کی بنا پر جب کوئی مسئلہ ان حضرات کی طرف سے آئے تو اس سے صرف نظر ممکن نہیں جو احادیث اس باب میں آئی ہیں ان کے متون واسانید ، ائمہ حدیث کے آراء وافکار اور محققین کے ارشادات کی روشنی میں جو مواد میسر آسکا اس کا تذکرہ"رحیق" کے صفحات میں آچکا ہے۔ آب حیات: حال ہی میں برادر محترم حضرت مولانا محمد چراغ صاحب کی عنایت سے حضرت مولانا نانوتوی رحمہ اللہ کی "آب حیات" دیکھنے کا موقع ملا۔۔۔۔۔۔ مولانا نانوتوی رحمہ اللہ کے علم اور جلالت قدر کاپہلے بھی یقین تھا"آب حیات" دیکھنے سے ان کا احترام اور بھی زیادہ ہوا ان کی جلالت قدر کے باوجود بلا خوف تردید کہا جاسکتا ہےکہ" آب حیات" کا انداز تحقیق سے زیادہ تاویل پر مبنی ہے مولانا مغفور نے یہ کتاب وراثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق شیعہ نقطہ نظر کے جواب میں لکھی ہے اور شیعی شبہات سے مخلصی کے لیے یہ مناظرانہ راہ اختیار فرمائی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جسمانی طور پر زندہ ہیں اور ان کی یہ زندگی دنیوی زندگی ہے اس لیے تقسیم وراثت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مولانا کے ساتھ انتہائی عقیدت کے باوجود اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مناظرانہ راہ ہے اس سے وہ نصوص حل نہیں ہوتے جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات دفن اور اس دنیا سے انتقال کا صریح تذکرہ موجود ہے۔۔۔۔۔۔ قرآن کی صراحت اِنَّکَ میَیِّت وَّانَّھُم مَیِّتُونَ اور احادیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کی تفصیلات ، حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کا خطبہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا سکوت ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا رجوع امہات المومنین رضی اللہ عنہما کا سوگ ایسی چیزیں نہیں ہیں جنہیں مولانا نانوتوی رحمہ اللہ کی علمی جلالت کی وجہ سے نظر انداز کردیا جائے۔ خود اکابر دیوبند یا ان کی اکثریت ان بزرگوں سے اس عقیدہ میں متفق نہیں اس کی حقیقت ایک صوفیانہ تخیل سے زیادہ کچھ نہیں نصوص حدیثیہ کی ظاہری تعبیرات اس کے خلاف ہیں تقلیدی جمود کی ذمہ داری تو یقیناً نہیں لی جاسکتی لیکن بصیرت دینی ان تاویلات کے قبول کرنے سے انکار کرتی ہے اس لیے ابناء دیوبند سے ادباً گذارش ہے کہ اکابر دیوبند بے شک قابل احترام ہیں لیکن وہ اپنے وقت کے ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ابو یوسف رحمہ اللہ نہیں ہیں کہ ان کی ہر بات تقلیدًا مان لی جائے اس لیے گذارش ہے کہ جمود سے بچنے کی کوشش کی جائے کتاب وسنت موجود ہے اور ائمہ سلف کی تصریحات بھی ولا قول لاحد مع اللہ ورسولہ۔