کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 51
حیات النبی اور اہل حدیث: مجھے خوشی ہے کہ اکابر اہل حدیث میں کسی سے اس قسم کی لغزش نہیں ہوئی ہمارے اکابر سے غزنوی خاندان کو تصوف سے جو شغف رہا ہے وہ بحث ودلیل کا محتاج نہیں لیکن حضرت عبد اللہ غزنوی رحمہ اللہ علیہ اور ان کے ابناء کرام اور تلامذہ عظام سے کوئی بھی اس قسم کے اعتقادی جمود کا شکار نہیں ہوا ، والحمدللہ علیٰ ذالک۔ حضرت شاہ اسحاق صاحب رحمہ اللہ کے علوم سے جن لوگوں نے حضرت شیخ الکل مولانا سید نذیر حسین صاحب کے توسط سے استفادہ فرمایا ہے وہ اس قسم کی خوش اعتقادی سے محفوظ رہے ہیں اسی طرح جن لوگوں نے علمائے یمن سے علوم سنت کا استفادہ فرمایا ہے وہ بھی ان کمزور اور دو راز کا ر تاویلات سے محفوظ رہے ہیں اور یہ ساری برکت اس بنا پر ہے کہ یہ دونوں طریق تقلیدی جمود سے پاک ہیں ان میں اساتذہ کا ادب تو یقیناً ہے لیکن جمود اور تقلید نہیں۔۔۔۔ یہی محدثین کی اصل راہ ہے ۔۔۔۔۔ جب سے محققانہ تنقید کو بے ادبی کہا جانے لگا اس وقت سے جمود نے عقل وفکر کی راہوں کو مسدود کرنا شروع کردیا اوردماغوں نے سوچنا ترک کردیا۔ میری گذارشات : میری گذارشات میں ان اساطین علم کے ارشادات پر حدود ادب کے اندر رہتے ہوئے تنقید تھی اگر یہ مسئلہ صرف بریلی کی راہ سے آتا تو میں اس پر ایک حرف بھی لکھنے کی ضرورت محسوس نہ کرتا میں نے عرض کیا ہے کہ نہ وہ حضرات سوچنے کے عادی ہیں نہ ان کا علمی حلقوں میں کوئی اثر ہے۔ حضرات اکابر دیوبند کے علمی احترام کے وسیع اثر نے مجبور کیا کہ ان کے ارشادات کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تا کہ طلباء علمی تنقید اور بحث نظر کی عادت سیکھیں ۔۔۔۔۔ ان گذارشات کا مختلف حلقوں میں عجیب اثر ہوا بعض حلقوں نے اسے بے حد پسند کیا، گویا وقت کی یہ ایک ضرورت تھی اس وقت تک پاک و ہند کے کئی جرائد میں وہ مضمون شائع ہو رہا ہے ، بعض حلقوں نے اسے سخت ناپسند فرمایا اور اسے حضرات اکابر دیوبند کی بے ادبی پر محمول فرمایا ۔ اعاذنی اللہ من ذالک۔