کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 52
بعض نے اس پر جزوی اور معقول تنقید فرمائی اور توجہ دلائی کہ معتدل بسط کے باوجود اس میں تشنگی ہے بعض گوشے مجمل ہیں ضرورت ہے کہ ان کی مزید وضاحت کی جائے۔ بعض کا خیا ل ہے کہ مسئلہ اساسی طور پر نظر ثانی کا محتاج ہے ضرورت ہے کہ نصوص کی روشنی میں پورے موضوع پر نظر ثانی کی جائے جو خطوط بذریعہ ڈاک موصول ہوئے ان میں بھی یہی کیفیت موجود تھی۔ منشی محمد شفیع صاحب کا نظریہ: چنانچہ ہمارے محترم دوست منشی محمد شفیع صاحب لاہوری (جو مشرباً دیوبندی) طبعاً حق پسند اور بحث ونظر ، تحقیق وتنقید کے عادی ہیں) نے توجہ دلائل کہ مسئلہ کے بعض پہلو محل نظر ہیں ان پر مزید غور ہونا چاہیئے۔ میں نے اپنی گذارشات میں عرض کیا تھا کہ حیات انبیاء علیہم السلام پر اجماع امت ہے گو احادیث کی صحت محل نظر ہے تاہم ان کا مفادیہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے اجسام مبارکہ کو مٹی نہیں کھاتی ان اللہ حرم علی الارض ان تاکل اجساد النبیاء(ابن ماجہ ص ۱۱۹،۷۷ ترغیب منذری ص۱۱ جلد۲) منشی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ کلیہ صحیح نہیں کہ تمام انبیاء علیہم السلام کے اجسام خاک پر حرام ہیں بعض انبیاء علیہم السلام کے متعلق معلوم ہے کہ ان کے اجسام میں مٹی نے تصرف کیا چنانچہ حافظ نور الدین شیمی ؁ ۸۰۷ھ نے مجمع الزواید جلد ۱۰ ص۱۷۰ وص۱۷۱ میں ابو یعلی اور طبری سے بروایت حضرت موسیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نقل فرمایا ہے۔ فقال علماء بنی اسرائیل ان یوسف لما حضرہ الموت اخذ علینا موثقاً من اللہ ان لا تخرج من مصرحتی ننقل عظامہ (الی ان قال) فلما احتفر وا اخرجوا عظام یوسف ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں الفاظ کی ترکیب اس طرح ہے قال لہ انک عند قبر یوسف فاحتمل عظامہ وقد استوی القبر بالارضی(الی ان قال) فاخرج العظام و جاوزا البحر)ص۱۷۱ جلد ۱۰ مجمع الزوائد) یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام جب بنی اسرائیل کے ہمراہ رات مصر سے نکلے تو راستہ بھول گئے جب تشویش ہوئی تو علماء بنی اسرائیل نے فرمایا ، یوسف علیہ السلام نے ہم سے پختہ وعدہ لیا تھا کہ جب وہ مصر سے جائیں تو میری ہڈیاں اپنے ہمراہ لیتے جائیں چنانچہ انہوں نے ہڈیاں نکال لیں اور اپنے ہمراہ لے گئے۔(ملخصاً)