کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 53
منشی صاحب کا خیال ہے کہ جسم اطہر کی حفاظت میں جو احادیث آئی ہیں وہ درست نہیں لیکن ابو یعلی کی روایت صحیح ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی ہڈیاں موسیٰ علیہ السلام ہمراہ لے گئے منشی صاحب کا خیال ہے کہ یوسف علیہ السلام کی اس وقت صرف ہڈیاں تھیں گوشت اور پوست نہیں تھا۔ ہیثمی نے ابویعلی کی روایت کے متعلق فرمایا ہے کہ رجال ابی یعلی رجال الصحیح وھذاالذی حملنی علی سیاقھا(ص۱۷۱ مجمع الزوائد جلد ۱۰) ابو یعلی کے رجال صحیح کے رجال ہیں اسی لیے میں نے اس حدیث کا تذکرہ کیا ہے۔ طبرانی کی روایت کے متعلق فرماتے ہیں۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط وفیہ من لم اعرفھم )ص۱۷۱) (طبرانی کی روایت کے راوی غیر معروف ہیں) منشی صاحب نے اس مفہوم کا ایک حوالہ البدایہ والنہایہ لابن کثیر جلد اول ص ۲۷۵ سے بھی نقل فرمایا ہے۔ ولما خرجوا من مصرا خرجوا معھم تابوت یوسف علیہ السلام یعنی جب بنی اسرائیل مصر سے نکل تو یوسف علیہ السلام کا تابوت بھی اپنے ہمراہ لے گئے۔" منشی صاحب کی تائید میں ایک حوالہ ابن خلدون جلد۱ ص۱۳۱ میں بھی ملتا ہے۔ لافتح یوشع مدینۃ اریحاء صاد الی نابلس فملکھا ودفن ھنالک شلو یوسف علیہ السلام وکانوا حملوہ معھم عند خروجھم من مصروقد ذکر ناانہ کان اومی بذلک عند موتہ ۱ھ۔