کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 54
حضرت یوشع نے اریحا کے بعد جب تابلس پر قبضہ کیا تو حضرت یوسف علیہ السلام کی ہڈیاں وصیت کے مطابق وہاں دفن کردیں یہ ہڈیاں مصر سے نکلتے وقت وہ اپنےہمراہ لائے تھے ان حوالوں سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کے متعلق یہ کلیہ درست نہیں بعض انبیاء علیہم السلام اس سے مستثنی معلوم ہوتے ہیں۔ اہل علم کا فرض ہے کہ ان نصوص میں غور فرمائیں اور اس میں بظاہر تعارض میں ترجیح یا تصلی کی کوشش فرمائیں متوسلین دیوبند سے خصوصی گذارش ہے وہ اپنے اکابر کے مسلک ان تصریحات کی روشنی میں ثابت فرمائیں مسائل عصبیت یا ناراضگی سے حل نہیں ہوتے اور نہ عقیدت مفرطہ دلائل اور براہین کا بدل ہی ہوسکتی ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ان متعارض دلائل کا اثر حیات برزخی پر نہیں پڑتا وہ بہر حال ثابت ہے عذاب وثواب قبر کی احادیث کے ہوتے ہوئے قبر میں زندگی کی کوئی صورت تو یقیناً ہو گی مشکلات حیاتِ نوعی میں ہیں خصوصاً جب اسے جسمانی دنیوی سمجھا جائے بریلوی حضرات کے نقطہ نظر سے یہ مسئلہ اور بھی مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ وہ قبر میں بظاہر بعض تکلیفات شرعیہ کا بھی صلحاء امت کو مکلف سمجھتے ہیں۔ ازدواجی تعلقات کی کہانیاں بھی ان کے ہاں مروج اور متعارف ہیں۔ صاحب روح المعانی نے حیات شہداء کے سلسلہ میں انواع حیات متعلق کافی تفصیل فرمائی ہے محترم منشی محمد شفیع صاحب کا منشایہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کے لیے برزخی زندگی تو مانتے ہیں لیکن وہ اس زندگی کے لیے نہ جسم کو ضروری سمجھتے ہیں نہ اس کےلیے دنیوی زندگی کے لوازم کی ضرورت ہی محسوس فرماتے ہیں۔ منشی صاحب کے دلائل کا تجزیہ: اس میں شک نہیں کہ دلائل میں ایسا باور کرنے کی گنجائش موجود ہے اگر حیات کا جسمانی اور دنیوی تصور قبول کیا جاسکتا ہے تو منشی صاحب کے تصور کی راہ میں کونسا مانع حائل ہوسکتا ہے لیکن میری رائے میں منشی صاحب کے دلائل کئی وجوہ سے کمزور اور مرجوع معلوم ہوتے ہیں۔ ۱۔ حدیث: ان اللہ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء۔ اللہ تعالی نے مٹی پر انبیاء کے اجسام حرام فرما دیئے ہیں۔ گو بلحاظ سند صحیح نہیں تاہم اصول ستہ کو فوقیت طبرانی اور ابو یعلی پر ہے اُسے نظرانداز