کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 58
مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک سوال اور مدیر تجلی"دیوبند کا تحقیقی جواب لاہور سے رحیق نامی ایک ماہنامہ نکلتا ہے یہ اہل حدیث حضرات کا آرگن ہے اس کی چند اشاعتوں میں "حیات النبی کے مسئلہ پر ایک خاص غلو پسندانہ انداز میں کلام کیا گیا ہے خصوصاً آخری قسط (مئی ۱۹۵۸ء ) علمائے دیوبند حتیٰ کہ قاسم العلوم والخیرات حجۃ اللہ مولانا محمد قاسم رحمتہ اللہ علیہ تک کی تقلیل وتخطیہ میں کسر اٹھا کے نہیں رکھی گئی ہے کاش آ پ اس مضمون کو ملاحظہ فرمائیں اور جو قلم مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کی تائید میں دفتر کے دفتر گھسیٹ دیتا ہے اور وہ اپنے لائق صداحترام اکابر واسلاف کی حمایت میں بھی جولائی دکھائے اور تمام ائمہ سے بڑھ کر اپنے آپ کو صاحب علم اور عقیل فہیم سمجھنے والے اہل حدیث کی جسارتوں کا جواب لائے امید ہے کوشش کرکے"رحیق " حاصل کریں گے اور اپنے اکابر کی حمایت سے نہیں چوکیں گے ویسے بھی"حیات النبی" کے مسئلہ پر رحیق کے مضمون نکار کی رائے لطیف طریقے پر توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر منتج ہوتی ہے جس کا ازالہ نہایت ضروری ہے۔ جواب: رحیق بہترین علمی مجلہ ہے: ماہنامہ" رحیق" لاہور "تجلی" کے تبادلہ میں وفتر "تجلی" میں آتا ہے اور ان پرچوں میں شامل ہے جنہیں ہم کم و بیش پورا دیکھے بغیر نہیں چھوڑتے بلکہ ہمیں کہنا چاہیئے کہ ہم اسے ناقدانہ نہیں بلکہ طالب علم اور شاگردانہ حیثیت سے پڑھتے ہیں کیوں کہ اس کے مضامین عموماً قیمتی علمی مواد پر مشتمل ہوتے ہیں جن سے ہماری حقیر سی متاع علم میں مفید اضافہ ہوتا ہےآپ کے خط کو پڑھ کر نہایت رنج ہوا انداز بیان سے لے کر نفس مطلب تک تمام خط تعصب غلط فکری اور جاہلی تصورات سے آلودہ ہے کاش آپ"تجلی"کے قائل اٹھا کردیکھتے کہ ہم دینی معاملات میں کس نقطہ نظر کے حامل ہیں اور ہمارے نزدیک دین میں گروہ بندیاں اور اجارہ داریاں کس قدر افسوسناک امور ہیں ہزار ہزار صدمہ اور ملال ہے کہ ہمارے موجودہ مدرسے عموماً وہی فاسد ومجہول اور غالی ومتعصب ذہن تیار کرر ہے ہیں جس کی خاصی جھلک آپ کے خط میں دیکھی جارہی