کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 60
کام نہیں کرتے ، بلکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں قرآن کے بار بار بیان کیے ہوئے تصور بشریت کو مافوق البشر تصورات واوہام سے آلودہ کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں"(تجلی مئی ۱۹۵۶ھ ص۳۳) مولانا قاسم رحمہ اللہ معصوم نہیں تھے :مولانا محمد قاسم رحمہ اللہ سے عقیدت و محبت کا جہاں تک سوال ہے تو سچ ہے کہ ہم انہیں اپنے کا بہترین عالم، ذہین وفہیم مفکر اور صاحب زہد ورع دانش ور سمجھتے تھے لیکن یہ عقیدت اس لغویت تک کبھی نہیں پہنچتی کہ ہم ان کو معصوم مان کر ان کے ہر فکر ورائے کی اندھا دھند تائید کرتے چلے جائیں چنانچہ ان کی مختلف تحریروں میں اس طرح کی باتیں دیکھنے کے بعد بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت"موت" کے معلوم عام مفہوم مصداق سے جدا گانہ شے ہے اور اس کی مثال اس ہانڈی کی سی ہے جو کسی چراغ پر ڈھک دی جائے ہم کسی طرح اپنے آپ کو اس بارک خیال کی تائید وتصدیق پر مائل نہ کرسکے بلکہ ہمارا عقیدہ وہی رہا کہ قرآنی تصریحات کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت من حیث البشر ویسی ہی رحلت ہے جیسی کسی دوسرے انسان کی ہوتی ہے اور"موت" کا لفظ اس پر ٹھیک اس طرح صادق آتا ہےجس طرح کسی اور انسان کی رحلت پر اس کے لیے قرآن، حدیث اور خلیفہ اول کی تقریر میں واضح شہادت موجود ہے رہا بعد مرگ ان کا زندہ رہنا اور زمین پر ان کے جسم کی حرمت تو اگرچہ اس کا انکار ایک مسلمان کی حیثیت میں ممکن ہی نہیں ہے لیکن جو لوگ اس زندگی بعد مرگ کو ٹھیک دنیاوی زندگی جیسا ثابت کرنا چاہتے ہیں اور مر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اٹل حقیقت ماننے سے فرار کی راہ اختیار کرتے ہوئے اس طرح کی باتیں کرتے ہیں گویا یہ"موت" محض ایک فریب نظر یا مذاق تھا وہ اچھا نہیں کرتے اور ان کا ذہن وقب اس غلط ترین خیال سے مسموم ہے کہ" موت" ایک اتنے عظیم پیغمبر کے لیے توہین وتحقیر کا باعث معلوم ہوتی ہے۔ خیر مولانا قاسم رحمتہ اللہ علیہ کا انداز تحریر تو کچھ ادق اور غامض تھا کہ ہم کو تاہ فہموں کے لیے اس حسن ظن کی بھی گنجائش باقی رہ جاتی تھی کہ جو کچھ انہوں نے تحریر فرمایا ہے شائد اس کا مطلب وہ نہ ہو جو ہم نے سمجھا ہے اور وہ حیات النبی کے باب میں فی الحقیقت وہی مسلک رکھتے ہوں جسے ہم درست سمجھ رہے ہیں۔