کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 61
کل کا دیوبند اور آ ج کا دیوبند: پھر وہ زمانہ بھی اور تھا شرک و بدعت کے خلاف خود مولانا قاسم رحمہ اللہ اور دیگر ہم عصر علماء دیوبند آئے دن سرگرمیوں کا مظاہرہ فرماتے رہتے تھے اور"حیات النبی" کے متعلق ایک خاص مسلک رکھنے سے قبوری حضرات کو جو شبہ ملنی ممکن تھی اس کا سدباب اور ازالہ ان کی دیگر واضح و مصرح اور موکدو مدلل تحریروں اور تقریرون سے پوری طرح ہو رہا تھا لیکن آج جو احوال ہیں وہ بالکل مختلف ہیں آج وہ زبانیں گنگ وہ انگلیاں مفلوج اور وہ جذبات سرد ہوچکے ہیں جو مولانا اسماعیل شہیدرحمہ اللہ کی طرح اکرام مسلم کے ساتھ اہانت بدعتی اور تردید شرک و بدعت کو بھی منجملہ فرائض قرار دیتے تھے وہ اخلاف حکمت ورواداری کی"ملین پالیسی" اختیار فرما چکے ہیں جن کے اسلاف شرک وبدعت کے باب میں رواداری ، تلین ، درگذر اور صرف نظر کو بزدلی بے حسی، بے عقلی اور دوغلا پن گمان فرماتے تھے اسی لیے آج کہیں اور نہیں خود دیوبند میں اس دیوبند میں جہاں طبلہ وہارمونیم والی قوالی ، صلوٰۃ علی القبر ، جمعراتی ، جشن قبوری ، چارد بازی اور دیگر قبوری بدعات کا سایہ تک نہیں ملتا تھا، یہ سب کچھ موجود ہے نہ صرف موجود بلکہ روز افزوں ترقی پر ہے، کیسے نہ ہو ہمارے واعظانِ شیریں بیان کا یہ حال ہے کہ جب وہ کسی ایسے مجمع میں وعظ فرماتے ہیں جہاں اکثریت مبتدعین ومجہولین کی ہوتو زدمعنی اور آرٹسٹک گل افشانیوں کے وہ اعلیٰ نمونے پیش کرتے ہیں کہ توحید پرست بھی واہ واہ کراٹھیں اور مقبروں کی خاک چاٹنے والوں کا دل بھی گز بھر کا ہوجائے دیوبندی کہیں کہ کوئل"حقاتو" بولی بدعتی کہیں کہ نہیں وہ تو"عبد القادر" بولی۔ حد ہوگئی اسی عید الفطر کے وعظ میں دیوبند کی عید گاہ کے لاوڈ سپیکر سے قبل نماز عید قبروں پر جانے کی مسنونیت نشر ہوئی اور ایک خاص حالت ، خاص فضا اور خاص معاشرے سے متعلق حدیث کو ٹھیک اس واعظانہ بے قیدی دبے پناہی کے ساتھ استعمال کیا گیا جس کے نقصان واضرار پر ابن تیمیہ رحمہ اللہ ، ابن قیم رحمہ اللہ اور مجدد الف ثانی رحمہ اللہ جیسے حضرات سر پیٹتے گئے ہیں اور جس کی سطحیت پر سید اسماعیل شہید جیسے اعاظم رجال پناہ مانگ چکے ہیں۔ قبوری ذہن کو ہتھیار: ہندوپاک میں قبر پرستی اور پرستش اولیاء جس قدر زوروں پر ہے آنکھ والوں سے مخفی نہیں ایسے حالات اور ماحول میں جو اہل علم"حیات النبی" کا مسئلہ لے کر بیٹھتے ہیں اور حیات پیغمبر کو