کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 62
بالکل حیاتِ دنیاوی بنا کر اپنی فدائیت رسول اور حب پیغمبر اور تجر علمی کا مظاہرہ فرمانا چاہتے ہیں وہ صرف وقت کا ضیاع ہی نہیں کرتے بلکہ اسے ایک نہایت افسوسناک نتائج پیدا کرنے والے کام صرف کرتے ہیں اور قبوری ذہن کو تصور توحید کے خلاف ہتھیار مہیا فرماتے ہیں اسی لیے آج اس مسئلہ کی حیثیت محض علمی نہیں رہی کہ اس میں ہر نقطہ نظر کو باعتبار اجتہاد حق وثواب مان لیا جائے بلکہ اس کی نوعیت ایک مستقل فتنے کی ہوگئی ہے جس سے دامن بچانا ہر دانش مند کا فرض ہے اسی وجہ سے "رحیق" کے فاضل مضمون نگار نے زحمت تنقید فرمائی ہے اور اس وجہ کا مختصراً اظہار بھی آخر میں کردیا ہے۔ نفس مسئلہ سے ہٹ کر جہاں تک طرز تحریر اور معیار تنقید کا تعلق ہے تو اگر نفس مسئلہ پر ہم فاضل مضمون نگار سے متفق نہ ہوتے تب بھی برملا یہی کہتے کہ سنجیدہ ومتین اور ٹھوس علمی اختلاف کا جو بہتر سے بہتر معیار ہوسکتا ہے انہوں نے اس کا حق ادا کردیا ہے لہجے سے لے کر الفاظ تک اور دلائل سے لے کر آداب تک انہوں نے پوری شائستگی ، بردباری اور نجابت کاثبوت دیا ہے یہ تو ہوسکتا ہے کہ آپ یا کوئی اور ان کے دلائل سے متفق نہ ہو یا دلائل کو سمجھے بوجھے بغیر صرف عقیدتاً اسی خیال پر جما رہے جو اس کے محبوب بزرگوں کا ہے لیکن یہ نہیں ہوناچاہیئے کہ ان کا اہل حدیث ہونا آپ کی آنکھوں پر تعصب کی پٹی باندھ دے اور اپنے بزرگوں کے ایک مسلک کی علمی تنقید آپ کو جامے سے باہر کر دے۔ یہ کیسی بلید الذہبی ہے کہ اپنے طرف تو آپ جماعت اسلامی کی تائید کا ذکر نہایت تحبر سے کرتے ہیں دوسری طرف بعض اکابر اسلاف کے ساتھ"لائق صد احترام" کا دم چھلا لگا ئیں ہمیں ان کی حمایت پر اس لیے ابھارتے ہیں کہ وہ"ہمارے" ہیں اس طرح کی لغویتیں قوم ودطن کے محور پر گھومنے ولی سیاست میں چلتی ہیں لیکن دینی وعلمی مسائل میں اپنا اور پرایا ، لائق صداحترام اور لائق صد اہانت کوئی چیز نہیں ہوتی مولانا قاسم رحمہ اللہ علیہ یا کسی اور دیوبندی بزرگ سے کہ ہمارے نسلی اور وطنی کچھ رشتے ہیں تو دینی وعلم مسائل میں ان رشتوں کی دہائی دینا پر لے درجے کی تنگ نظری ہے اور مولانا مودودی سے ہمارا نسلی ووطنی کوئی بھی رشتہ اگر نہیں ہے تو اس عدم تعلق کو دینی وعلمی مسائل میں ملحوظ رکھنے کا سبق دینے والا ہمارے نزدیک انتہائی پستی فکر ونظر کا شکار ہے پھر اسی سانس میں آپ اہل حدیث پر بھی علی الاطلاق ایک بھونڈہ فقرہ کس جاتے ہیں یہ کیا گراوٹ ہے ہم بے شک حنفی ہیں اور یہاں تک غالی کہ اگر کسی فقہی مسلک کے بارے میں ہمیں تحقیق ہو جائے کہ واقعی وہ امام ابو حنیفہ ؒ کا ہے اور بعد کے کسی حنفی نے اس میں اپنے