کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 63
اجتہاد وقیاس کو داخل نہیں کیا ہے تو چاہے یہ ہمارے علم وعقل کے بظاہر خلاف ہی ہومگر ہم اس سے اختلاف کی ہمت نہیں کریں گے کیونکہ ہمارے پاس وہ کافی علم نہیں ہے جواتنے بڑے عالم ودانا سے اختلاف کرنے کا حق عطا کرتا ہے۔ اہل حدیث پر توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا الزام: "توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم " کی ایک ہی رہی اہل حدیث اور توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم ؟ دن اور تاریکی؟ آسمان اور پستی؟ ہمیں پہلے ہی اندیشہ تھا کہ دیوبندی علمائے خلف کی اہل بدعت سے نیم برہنہ سانٹھ گانٹھ او مفاہمت آخر کار دیوبندی مکتبہ فکر میں بھی مبتد عانہ غلوفی العقائد اور متوہمانہ نکتہ سنجی کا زہر پھیلا کے رہے گی، وہی ہوا اہل بدعت تو دیوبندیوں پر توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور تحقیر اولیاء کے الزامات عائد کرتے تھے اب دیوبندی مسلک کے لوگ اہل حدیث اور مولانا مودودی وغیرہ پر یہی ہوائی تیر چلا رہے ہیں۔ بندہ رب! رحیق والے مضمون میں تو توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا شائبہ تک نہیں جو خورد بین چونٹی کو ہاتھی بنا کر دکھاتی ہو، وہ بھی اس مضمون میں توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حبہ نہیں دکھاسکتی یہ الگ بات ہے کہ جس طرح قبوری حضرات نے اہل قبور کے لیے رنگ برنگے عقائد گھڑلیے ہیں طرح طرح کی درواز کار اور بے اصل صفات اولیاء مرحومین کے لیے تصنیف فرما لی ہیں اور ان خود ساختہ عقائد وصفات کی تردید کو وہ توہین اولیاء قرار دیتے ہیں اسی طرح آپ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باب میں کچھ طبع زاد تصورات کو حقائق مان لیا ہو اور ان سے بدلائل اختلاف کرنے والوں کو مرتکب توہین قرار دینے لگیں۔ مولانا محمد اسماعیل کا درست تجزیہ: سچ لکھا ہے رحیق کے مضمون نگار جناب مولانا محمد اسماعیل صاحب نے "بعض دیوبندی علماء بھی بریلوی علم کلام کے ۱/۳ حصے سے موقعہ بموقعہ کام لیتے رہتے ہیں" بلکہ ہم تو یہاں تک شہادت دیں گے یہ علم کلام گا ہے گاہے جامہ عمل بھی پہن لیتا ہے مثلا یہاں اسیے بھی "علمائے کرام" موجود ہیں جو شاہ ولایت صاحب کے مزار پر جاتے ہیں اور واپس آکر دوست احباب سے یہاں تک فرماتے ہیں کہ آج مجھے شاہ ولایت صاحب نے ڈانٹا کہ اتنے دنوں سے کہاں تھا اور آج سینے سے لگالیا، اور آج فلاں مشورہ دیا یہاں ایسے بھی"عاشقان اولیاء" علماء ہی کے دائرے میں موجود ہیں کہ اگر آپ ان سے کہیں گے مولانا! یہ جو آپ نے درمیان کی دیوار