کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 64
ڈھاکر دوکرو ٹھریوں کا ایک کمرہ نا دیا تو بہت ہی چھا کیا تو وہ جواب دیں گے جی ہاں! حضرت مولانا۔۔۔۔۔۔۔۔ رحمۃ اللہ علیہ کی برکت ہے جو کام بھی کرتا ہوں ماشاء اللہ ان کی توجہ سے پسندیدہ ومرغوب ہوتا ہے حالانکہ کسی اور وقت میں جب موڈ ذرا بدلا ہوا ہو آپ انہیں کی زبانی یہ بھی سنیں گے کہ مولانا صاحب! بڑی ہی پریشانی ہے تنخواہ میں گزارا نہیں ہوتا فلاں یوں کیا تھا یوں بگڑ گیا فلاں ترکیب یوں سوجھی تھی اور اوندھی ہوگئی اب اگر آپ یاد دلائیں مولانا وہ برکت وتوجہ کہاں گئی جس کا آپ نے تذکرہ فرمایا تھا وہ سوختہ وبریاں جواب ملے گا کہ قادیانی علم کلام بھی پانی بھرتا رہ جائے گا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ بدعت کا کوئی وطن نہ وہ کوئی لمیٹڈ یا رجسٹرڈ کاروبار ہے ضروری نہیں کہ ایک دیوبندی عالم جو کچھ کہے اور کرے اس کا بدعت ہونا ناممکن قرار دیا جائے اور اہل حدیث حضرات اگرعلمائے دیوبند سے کسی مسئلہ میں اختلاف رکھتے ہوں تو لازماً علمائے دیوبند ہی حق پر ہوں آخرت کا اگر خیال ہے تو گروہی اور وطنی عصبیتوں کو بالائے طاق رکھ کر اسلام اور بند گان اسلام کی اصلاح وفلاح کے لئے وسعت نظر اور احلم وبرداشت کی راہ پر آیئے ورنہ قبر اقبال سے وہی آواز آئے گی کہ تمہاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں (تجلّی دیوبند ص۲۴ تا ص ۴۶ بابت جولائی واگست ۱۹۵۸ء)