کتاب: نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام - صفحہ 12

اس تفصیل سے معلوم ہواکہ عبدالرحمٰن بن اسحاق جمہور محدثین کرام کے نزدیک ضعیف و مجروح ہے بعض نے اس کو متہم اور متروک بھی کہا لہٰذا اس کی روایت مردود ہے۔ اسی لیے حافظ ابن حجر نے کہا: "واسنادہ ضعیف"(الدرایہ ۱۶۸/۱( بیہقی نے کہا: "لایثبت اسنادہ" نووی نے کہا: "ھو حدیث متفق علی تضعیفہ"ترمذی نے عبدالرحمٰن بن اسحاق کی حدیث کی تحسین اور حاکم نے تصحیح کی ہے" حالانکہ ترمذی اور حاکم دونوں ان لوگوں کے نزدیک تساہل کے ساتھ مشہور ہیں۔ ترمذی نے کثیر بن عبداللہ کی حدیث کی تصحیح کی ہے جبکہ کثیر کو کذاب بھی کہا گیا ہے ، اسی لیے بقول حافظ ذہبی "علماء ترمذی کی تصحیح پر اعتماد نہیں کرتے۔"(میزان الاعتدال ۴۰۷/۳( حاکم نے مستدرک میں عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کی حدیث کی تصحیح کی ہے ، حالانکہ یہی حاکم اپنی کتاب ""ترمذی نے عبدالرحمٰن بن اسحاق کی حدیث کی تحسین اور حاکم نے تصحیح کی ہے" حالانکہ ترمذی اور حاکم دونوں ان لوگوں کے نزدیک تساہل کے ساتھ مشہور ہیں۔ ترمذی نے کثیر بن عبداللہ کی حدیث کی تصحیح کی ہے جبکہ کثیر کو کذاب بھی کہا گیا ہے ، اسی لیے بقول حافظ ذہبی "علماء ترمذی کی تصحیح پر اعتماد نہیں کرتے۔"(میزان الاعتدال ۴۰۷/۳( حاکم نے مستدرک میں عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کی حدیث کی تصحیح کی ہے ، حالانکہ یہی حاکم اپنی کتاب ""ترمذی نے عبدالرحمٰن بن اسحاق کی حدیث کی تحسین اور حاکم نے تصحیح کی ہے" حالانکہ ترمذی اور حاکم دونوں ان لوگوں کے نزدیک تساہل کے ساتھ مشہور ہیں۔ ترمذی نے کثیر بن عبداللہ کی حدیث کی تصحیح کی ہے جبکہ کثیر کو کذاب بھی کہا گیا ہے ، اسی لیے بقول حافظ ذہبی "علماء ترمذی کی تصحیح پر اعتماد نہیں کرتے۔"(میزان الاعتدال ۴۰۷/۳( حاکم نے مستدرک میں عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کی حدیث کی تصحیح کی ہے ، حالانکہ یہی حاکم اپنی کتاب "المدخل الی الصحیح" میں لکھتے ہیں: "روی عن ابیہ احادیث موضوعۃ لا یخفی علی من تاملھا من اھل الصنعۃ ان الحمل فیھا علیہ" (ص۱۰۴) زیلعی حنفی لکھتے ہیں کہ: "وتصحیح الحاکم لا یعتد بہ"یاد رہے کہ عبدالرحمٰن مذکور کی تحت السرۃ والی روایت کو کسی محدث وامام نے صحیح یا حسن نہیں کہا، لہٰذا امام نووی کی بات صحیح ہے کہ یہ حدیث بالاتفاق ضعیف ہے۔ یاد رہے کہ عبدالرحمٰن مذکور کی تحت السرۃ والی روایت کو کسی محدث وامام نے صحیح یا حسن نہیں کہا، لہٰذا امام نووی کی بات صحیح ہے کہ یہ حدیث بالاتفاق ضعیف ہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب