کتاب: نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام - صفحہ 13

یاد رہے کہ عبدالرحمٰن مذکور کی تحت السرۃ والی روایت کو کسی محدث وامام نے صحیح یا حسن نہیں کہا، لہٰذا امام نووی کی بات صحیح ہے کہ یہ حدیث بالاتفاق ضعیف ہے۔ عبدالرحمٰن کے اساتذہ میں زیاد بن مجہول ہے۔ (تقریب التہذیب: ۲۰۷۸( نعمان بن سعد کی توثیق سوائے ابن حبا کے کسی نے نہیں کی اور اس سے عبدالرحمٰن روایت میں تنہا ہے لہٰذا حافظ ابن حجر نے کہا: "فلا یحتج بخیرہ" (تہذیب التہذیب ۴۰۵/۱۰( عبدالرحمٰن الواسطی نے "عن سیار ابی الحکم عب ابی وائل قال قال ابو ھریرۃ۔۔۔" کی ایک سند فٹ کی ہے، اس کے بارے میں امام ابو داؤد نے کہا: "وروی عن ابی ھریرۃ ولیس بالقوی" دلیل نمبر ۲: دلیل نمبر ۲: وعن انس ۔۔۔ ووضع الیدی الیمنیٰ علی الیسریٰ فی الصلوٰۃتحت السرۃ جائزہ:تنبیہ: محلی ابن حزم اور الجوہر النقی میں یہ روایت بغیر سند کے مذکور ہے۔دوسرا گروہ کہتا ہے کہ نماز میں ناف سے اوپر سینے پر ہاتھ باندھنے چاہییں۔تنبیہ: محلی ابن حزم اور الجوہر النقی میں یہ روایت بغیر سند کے مذکور ہے۔دوسرا گروہ کہتا ہے کہ نماز میں ناف سے اوپر سینے پر ہاتھ باندھنے چاہییں۔تنبیہ: محلی ابن حزم اور الجوہر النقی میں یہ روایت بغیر سند کے مذکور ہے۔دوسرا گروہ کہتا ہے کہ نماز میں ناف سے اوپر سینے پر ہاتھ باندھنے چاہییں۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب