کتاب: نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام - صفحہ 22

7۔ ابن الترکمانی الحنفی والی جرح "قیل " کی وجہ سے مردود ہے ۔ دیکھئے الجوہر النقی (۳۰/۲( اس جرح کے مقابلے میں درج ذیل محدثین سے مؤمل بن اسماعیل کی توثیق ثابت یا مروی ہے۔ 1۔ یحیٰ بن معین: "ثقۃ" (تاریخ ابن معین راویۃ الدوری: ۲۳۵ والجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ۳۷۳/۸( کتاب الجرح والتعدیل میں ابن ابی حاتم نے لکھا ہے کہ 7۔ ابن الترکمانی الحنفی والی جرح "قیل " کی وجہ سے مردود ہے ۔ دیکھئے الجوہر النقی (۳۰/۲( اس جرح کے مقابلے میں درج ذیل محدثین سے مؤمل بن اسماعیل کی توثیق ثابت یا مروی ہے۔ 1۔ یحیٰ بن معین: "ثقۃ" (تاریخ ابن معین راویۃ الدوری: ۲۳۵ والجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ۳۷۳/۸( کتاب الجرح والتعدیل میں ابن ابی حاتم نے لکھا ہے کہ 7۔ ابن الترکمانی الحنفی والی جرح "قیل " کی وجہ سے مردود ہے ۔ دیکھئے الجوہر النقی (۳۰/۲( اس جرح کے مقابلے میں درج ذیل محدثین سے مؤمل بن اسماعیل کی توثیق ثابت یا مروی ہے۔ 1۔ یحیٰ بن معین: "ثقۃ" (تاریخ ابن معین راویۃ الدوری: ۲۳۵ والجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ۳۷۳/۸( کتاب الجرح والتعدیل میں ابن ابی حاتم نے لکھا ہے کہ "انا یعقوب بن اسحاق فیما کتب الی قال : نا عثمان بن سعید قال قلت لیحیی بن معین: ای شیئ حال المؤمل فی سفیان؟ فقال : ھو ثقۃ، قلت: ھو احب الیک او عبیداللہ؟ فلم یفضل احدا علی الآخر"(۳۷۴/۸) یعقوب بن اسحاق الہروی کا ذکر حافظ ذہبی کی تاریخ الاسلام میں ہے۔(۸۴/۲۵ وفیات سنۃ ۳۳۲ھ( حافظ ذہبی فرماتے ہیں: "ابو الفضل الھروی الحافظ ، سمع عثمان بن سعید الدارمی ومن بعدہ وصنف جزءاً فی الرد علی اللفظیۃ، روی عنہ عبدالرحمن ابن ابی حاتم بالاجازۃ وھو اکبر منہ، واھل بلدہ"(نقل کیا ہے۔(دیکھئے ۵۴۱/۲ وفی نسخۃ اخریٰ ص ۳۸۴، ۳۸۵( سوالات عثمان بن سعید الدارمی کا مطبوعہ نسخہ مکمل نہیں ہے۔ نقل کیا ہے۔(دیکھئے ۵۴۱/۲ وفی نسخۃ اخریٰ ص ۳۸۴، ۳۸۵( سوالات عثمان بن سعید الدارمی کا مطبوعہ نسخہ مکمل نہیں ہے۔ نقل کیا ہے۔(دیکھئے ۵۴۱/۲ وفی نسخۃ اخریٰ ص ۳۸۴، ۳۸۵( سوالات عثمان بن سعید الدارمی کا مطبوعہ نسخہ مکمل نہیں ہے۔ 2۔ ابن حبان: "ذکرہ فی کتاب الثقات(۱۸۷/۹) وقال : "ربما اخطا " ایسا راوی ابن حبان کے نزدیک ضعیف نہیں ہوتا، حافظ ابن حبان مؤمل کی حدیثیں خود صحیح ابن حبان میں لائے ہیں۔ (مثلاً دیکھئے الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ج۸ ص ۲۵۳ ح ۶۶۸۱( ابن حبان نے کہا: "اخبرنااحمد بن علی بن المثنیٰ قال: حدثنا ابوعبیدۃ بن فضیل ابن عیاض قال: حدثنا مؤمل بن اسماعیل قال: حدثنا سفیان قال: حدثنا علقمۃ بن یزید۔۔۔"الخ (الاحسان ۲۷۴/۹ ح ۷۴۱۷( معلوم ہوا کہ مؤمل مذکور امام ابن حبان کے نزدیک صحیح الحدیث یا حسن الحدیث ہے، حسن الحدیث راوی پر "ربما اخطا" والی جرح کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ 3۔ امام بخاری: "استشھد بہ فی صحیحہ" امام بخاری سے منسوب جرح کے تحت یہ گزر چکا ہے کہ امام بخاری نے مؤمل بن اسماعیل سے صحیح بخاری میں تعلیقاً روایت لی ہے لہٰذا وہ ان کے نزدیک صحیح الحدیث (ثقہ صدوق ( ہیں۔ 4۔ سلیمان بن حرب: "یحسن الثناء علیہ" یعقوب بن سفیان الفارسی کی جرح کے تحت اس کا حوالہ گزرچکاہے۔ * اسحاق بن راہویہ: "ثقۃ"(تہذیب التہذیب ۳۸۱/۱۰( یہ قول بلا سند ہے لہٰذا اس کے ثبوت میں نظر ہے۔ 5۔ ترمذی : صحح لہ(۴۱۵، ۶۷۲، ۱۹۴۸( وحسن لہ (۲۱۴۶، [۳۲۶۶]( تنبیہ: بریکٹ [ ] کے بغیر والی روایتیں مؤمل عن سفیان (الثوری) کی سند سے ہیں۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ ترمذی کے نزدیک مؤمل صحیح الحدیث وحسن الحدیث ہیں۔ 6۔ دارقطنی نے "مؤمل بن سفیان " کی سند کے بارے میں لکھا ہے کہ "اسنادہ صحیح" 7۔ دارقطنی نے "مؤمل بن سفیان " کی سند کے بارے میں لکھا ہے کہ "اسنادہ صحیح" 7

  • فونٹ سائز:

    ب ب