کتاب: نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام - صفحہ 28

ثقہ و صدوق ہیں، سفیان الثوری مدلس ہیں لہٰذا یہ سند ضعیف ہے۔ مدلس راوی کی اگر معتبر متابعت یا قوی شاہد مل جائے تو تدلیس کا الزام ختم ہوجاتا ہے۔ روایت مذکورہ کا قوی شاہد : مسند احمد (۲۲۶/۵ ح ۲۲۳۱۳( التحقیق فی اختلاف الحدیث لابن الجوزی (۲۸۳/۱ ح ۴۷۷( وفی نسخۃ اخری (۳۳۸/۱ ح ۴۳۴( میں"یحیی بن سعید (القطان ( عن سفیان (الثوری( : حدثنی سماک (بن حرب( عن قبیصۃ بن ہلب عن ابیہ" کی سند سے موجود ہے۔ ہلب الطائی رضی اللہ عنہ صحابی ہیں ، یحیٰ بن سعید القطان زبردست ثقہ ہیں، سفیان ثوری نے سماع کی تصریح کردی ہے۔ قبیصہ بن ہلب کے بارے میں درج ذیل تحقیق میسر ہے: حافظ مزی نے بغیر کسی سند کے علی بن المدینی اور نسائی سے نقل کیا کہ انھوں نے کہا: "مجہول" (تہذیب الکمال ۲۲۱/۱۵( یہ کلام کئی وجہ سے مردود ہے: ۱۔ بلاسند ہے۔ ۲۔ علی بن المدینی کی کتاب العلل اور نسائی کی کتاب الضعفاء میں یہ کلام موجود نہیں ہے۔ ۳۔ جس راوی کی توثیق ثابت ہوجائے اس پر مجہول ولائعرف وغیرہ کا کلام مردود ہوتاہے۔ ۴۔ یہ کلام جمہور کی توثیق کے خلاف ہے۔ قبیصہ بن ہلب کی توثیق درج ذیل ہے: ۱۔ امام معتدل العجلی نے کہا: "کوفی تابعی ثقۃ"(۵۔ نووی نے اس کی ایک حدیث کو "باسناد صحیح" کہا۔(المجموع شرح المہذب ج۳ ص ۴۹۰ سطر ۱۵( ۵۔ نووی نے اس کی ایک حدیث کو "باسناد صحیح" کہا۔(المجموع شرح المہذب ج۳ ص ۴۹۰ سطر ۱۵( ان چھ (۶) محدثین کے مقابلے میں کسی ایک محدث سے صراحتاً قبیصہ بن ہلب پر کوئی جرح ثابت نہیں ہے۔ ان چھ (۶) محدثین کے مقابلے میں کسی ایک محدث سے صراحتاً قبیصہ بن ہلب پر کوئی جرح ثابت نہیں ہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب