کتاب: نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام - صفحہ 29

ان چھ (۶) محدثین کے مقابلے میں کسی ایک محدث سے صراحتاً قبیصہ بن ہلب پر کوئی جرح ثابت نہیں ہے۔ حافظ ابن حجر کے نزدیک یہ راوی متابعت کی صورت میں "مقبول" ہے (تقریب التہذیب: ۵۵۱۶)ورنہ ان کے نزدیک وہ لین الحدیث ہے۔ مؤمل عن سفیان ثوری الخ والی روایت کی صورت میں قبیصہ مذکور حافظ ابن حجر کے نزدیک مقبول (مقبول الحدیث) ہوا۔ فتح الباری کے سکوت (۲۲۴/۳) کی روشنی میں دیوبندیوں کے نزدیک یہ راوی حافظ ابن حجر کے نزدیک حسن الحدیث ہے۔ نیز دیکھئے تعدیل نمبر:۲۰ حافظ ابن حجر کے کلام پر یہ بحث بطور الزام ذکر کی گئی ہےورنہ قبیصہ مذکور بذات خود حسن الحدیث ہیں۔ والحمدللہ جدول :مؤمل بن اسماعیل تعدیل کرنے والے: تعدیل ۱: یحیٰ بن معین: ثقۃ (تاریخ ابن معین: ۲۳۵( ۲: الضیاء المقدسی: اورد حدیثہ فی المختارۃ(۳۴۵/۱ ح ۲۳۷( ۳: ابن حبان: ذکرہ فی الثقات وقال : ربما اخطا(۱۸۷/۹( ۴: احمد: روی عنہ (دیکھئے مجمع الزوائد ۸۰/۱( ۵: ابن شاہین: ذکرہ فی کتاب الثقات(۱۴۱۶( ۶: الدارقطنی: صحح لہ فی سننہ(۱۸۶/۲ح ۲۲۶۱( ۷: سلیمان بن حرب: یحسن الثناء علیہ(کتاب المعرفۃ والتاریخ ۵۲/۳( ۸: الحاکم: صحح لہ فی المستدرک(۳۸۴/۱( ۹: الذہبی: کان من ثقات البصریین (العبر ۳۵۰/۱( ۱۰: الترمذی: صحح لہ فی سننہ(۶۷۲( ۱۱: ابن کثیر : قواہ فی تفسیرہ(۴۳۲/۴( ۱۲: الہیثمی: ثقۃ وفیہ ضعف ، المجمع (۱۸۳/۸( ۱۳: ابن خزیمہ: اخرج عنہ ، فی صحیحہ(۲۴۳/۱ ح ۴۷۹( ۱۴: البخاری: اخرج عنہ تعلیقاً فی صحیحہ جرح کرنے والے: جرح ۱: ابوحاتم: صدوق شدید فی السنۃ کثیر الخطا یکتب حدیثہ (کتاب الجرح والتعدیل ۳۷۴/۸(

  • فونٹ سائز:

    ب ب