کتاب: نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام - صفحہ 31

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ ائمہ محدثین کی اکثریت کے نزدیک مؤمل بن اسماعیل ثقہ یا حسن الحدیث اور ثقہ دعدد کثیر کی بات عدد قلیل پر حجت ہے۔ تنبیہ: حافظ مزی، حافظ ذہبی اور حافظ ابن حجر نے بغیر کسی سند کے امام بخاری سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے مؤمل مذکور کے بارے میں کہا: "منکر الحدیث" امام بخاری کی یہ جرح ہمیں ان کی کسی کتاب میں نہیں ملی، التاریخ الکبیر (۴۹/۸)میں بخاری مؤمل بن اسماعیل کا ترجمہ لائے ہیں مگر اس پر کوئی جرح نہیں کی۔ تنبیہ: حافظ مزی، حافظ ذہبی اور حافظ ابن حجر نے بغیر کسی سند کے امام بخاری سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے مؤمل مذکور کے بارے میں کہا: "منکر الحدیث" امام بخاری کی یہ جرح ہمیں ان کی کسی کتاب میں نہیں ملی، التاریخ الکبیر (۴۹/۸)میں بخاری مؤمل بن اسماعیل کا ترجمہ لائے ہیں مگر اس پر کوئی جرح نہیں کی۔ ظفر احمد تھانوی صاحب ایک قاعدہ بتاتے ہیں کہ ظفر احمد تھانوی صاحب ایک قاعدہ بتاتے ہیں کہ ظفر احمد تھانوی صاحب ایک قاعدہ بتاتے ہیں کہ " کل من ذکرہ البخاری فی "تواریخہ" ولم یطعن فیہ فھو ثقۃ" ہر وہ شخص جس کو (امام)بخاری اپنی توراریخ میں بغیر طعن کے ذکر کریں تو وہ (دیوبندیوں کے نزدیک) ثقہ ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ یہ اصول اصلاً باطل ہے، تھانوی صاحب کے نزدیک امام بخاری کی رائے میں مؤمل بن اسماعلیل ثقہ ہے، واللہ اعلم۔ امام بخاری نے مؤمل بن سعید الرحبی کو ذکر کرکے "منکر الحدیث" کہا ہے۔ (التاریخ الکبیر ج ۸ ص ۴۹( اس بات سے قطع نظر کہ یہ اصول اصلاً باطل ہے، تھانوی صاحب کے نزدیک امام بخاری کی رائے میں مؤمل بن اسماعلیل ثقہ ہے، واللہ اعلم۔ امام بخاری نے مؤمل بن سعید الرحبی کو ذکر کرکے "منکر الحدیث" کہا ہے۔ (التاریخ الکبیر ج ۸ ص ۴۹(

  • فونٹ سائز:

    ب ب