کتاب: نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام - صفحہ 32

مؤمل بن سعید پر بخاری کی جرح حافظ ذہبی اور حافظ ابن حجر نے ذکر تک نہیں کی۔ بخاری نے مؤمل بن اسماعیل کا ذکر "بخاری نے مؤمل بن اسماعیل کا ذکر "بخاری نے مؤمل بن اسماعیل کا ذکر "الضعفاء" میں نہیں کیا۔ متقدمین ومتاخرین جنھوں نے ضعفاء کے بارے میں کتابیں لکھی ہیں مثلاً ابن عدی ، ابن ھبان، عقیلی اور ابن لاجوزی وغیرہم ، انھوں نے مؤمل بن اسماعیل پر بخاری کی یہ نقل نہیں کی لہٰذا معلوم ہوا کہ حافظ مزی کو اس کے انتساب میں وہم ہوا ہے۔ ذہبی اور ابن حجر نے اس وہم میں ان کی اتباع کی ہے۔ اس کی دیگر مثالیں بھی ہیں مثلاً ملاحظہ کریں العلاء بن الحارث۔ (میزان الاعتدال ج۳ ص ۹۸ مع حاشیہ( تطبیق وتوفیق جارحین کی جرح عام ہے اور معدلین کی تعدیل میں تخصیص موجود ہے۔ یحیٰ بن معین نے مؤمل بن اسماعیل کو سفیان ثوری کی روایت میں ثقہ قراردیا ہے۔ مؤمل کی سفیان ثوری سے روایت کو ابن خزیمہ ، دارقطنی، حاکم، ذہبی ، ترمذی اور ابن کثیر نے صحیح و قوی قرار دیا ہے۔ مؤمل کی سفیان ثوری سے روایت کو ابن خزیمہ ، دارقطنی، حاکم، ذہبی ، ترمذی اور ابن کثیر نے صحیح و قوی قرار دیا ہے۔ مؤمل کی سفیان ثوری سے روایت کو ابن خزیمہ ، دارقطنی، حاکم، ذہبی ، ترمذی اور ابن کثیر نے صحیح و قوی قرار دیا ہے۔ متقدمین میں سے کسی امام نے بھی مؤمل کو سفیان الثوری کی روایت میں ضعیف نہیں کہا لہٰذا معلوم ہوا کہ وہ ثوری سے روایت میں ثقہ ہیں۔ متقدمین میں سے کسی امام نے بھی مؤمل کو سفیان الثوری کی روایت میں ضعیف نہیں کہا لہٰذا معلوم ہوا کہ وہ ثوری سے روایت میں ثقہ ہیں۔ متقدمین میں سے کسی امام نے بھی مؤمل کو سفیان الثوری کی روایت میں ضعیف نہیں کہا لہٰذا معلوم ہوا کہ وہ ثوری سے روایت میں ثقہ ہیں۔ دیوبندیہ کا ایک عجیب اصول دیوبندیہ کا ایک عجیب اصول دیوبندیہ کا ایک عجیب اصول (قواعد فی علوم الحدیث ص۷۷ نیز ملاحظہ فرمائیں اعلاء السنن ۲۰۶/۲( تھانوی صاحب کے اس قول سے معلوم ہوا کہ مؤمل حسن الحدیث ہے اور اس کی حدیث حسن ہے کیونکہ وہ مختلف فیہ ہے! اگر کوئی کہے کہ مؤمل اس روایت میں تنہا ہے تو اس کا جواب یہ کہے کہ ۱: سفیاں ثوری سے روایت میں ثقہ ہے لہٰذا اس کی حدیث حسن ہے۔ ۲: اس کی یہ روایت کسی ثقہ راوی کے خلاف نہیں ہے۔ ۳: حافظ ابن قیم نے اس کی حدیث کو "ترک السنۃ الصحیحۃ الصریحۃ" کی مثال میں ذکر کیا ہے۔ (اعلام الموقعین ۴۰۰/۲( ۴: بہت سی احادیث اس کی شاہد ہیں مثلا حدیث سابق وحدیث لاحق۔ "ان الراوی اذا کان مختلفا فیہ فھو حسن الحدیث وحدیثہ حسن" اگر راوی مختلف فیہ ہوتو وہ حسن الحدیث ہوتا ہے اور اس کی حدیث حسن ہوتی ہے۔ (قواعد فی علوم الحدیث ص۷۷ نیز ملاحظہ فرمائیں اعلاء السنن ۲۰۶/۲( تھانوی صاحب کے اس قول سے معلوم ہوا کہ مؤمل حسن الحدیث ہے اور اس کی حدیث حسن ہے کیونکہ وہ مختلف فیہ ہے! اگر کوئی کہے کہ مؤمل اس روایت میں تنہا ہے تو اس کا جواب یہ کہے کہ ۱: سفیاں ثوری سے روایت میں ثقہ ہے لہٰذا اس کی حدیث حسن ہے۔ ۲: اس کی یہ روایت کسی ثقہ راوی کے خلاف نہیں ہے۔ ۳: حافظ ابن قیم نے اس کی حدیث کو "ترک السنۃ الصحیحۃ الصریحۃ" کی مثال میں ذکر کیا ہے۔ (اعلام الموقعین ۴۰۰/۲( ۴: بہت سی احادیث اس کی شاہد ہیں مثلا حدیث سابق وحدیث لاحق۔ "ان الراوی اذا کان مختلفا فیہ فھو حسن الحدیث وحدیثہ حسن"

  • فونٹ سائز:

    ب ب