کتاب: نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام - صفحہ 33

اگر راوی مختلف فیہ ہوتو وہ حسن الحدیث ہوتا ہے اور اس کی حدیث حسن ہوتی ہے۔ ۵: یہ روایت مؤمل کی وجہ سے ضعیف نہیں بلکہ سفیان الثوری کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے، اسے حسن لذاتہ حدیث کی تائید میں بطور شاہد پیش کیا گیا ہے۔ نیز دیکھئے ماہنامہ "الحدیث" حضرو جلد اول شمارہ ۱ ص۲۶ ۵: یہ روایت مؤمل کی وجہ سے ضعیف نہیں بلکہ سفیان الثوری کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے، اسے حسن لذاتہ حدیث کی تائید میں بطور شاہد پیش کیا گیا ہے۔ نیز دیکھئے ماہنامہ "الحدیث" حضرو جلد اول شمارہ ۱ ص۲۶ شاہد نمبر ۲ قال ابوداؤد فی سننہ : "حدثنا ابوتوبۃ : ثنا الھیثم یعنی ابن حمید عن سلیمان بن موسیٰ عن طاؤس قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یضع یدہ الیمنیٰ علیٰ یدہ الیسریٰ ثم یشد بھما علیٰ صدرہ وھو فی الصلاۃ" طاؤس تابعی سے (مرسل( روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں سینے پر ہاتھ رکھتے تھے۔(نن ابی داؤد مع بذل المجہود ۴۸۲/۴ ح ۷۵۹( سند کی تحقیق: اس روایت کے راویوں کی تحقیق درج ذیل ہے: شاہد نمبر ۲ قال ابوداؤد فی سننہ : "حدثنا ابوتوبۃ : ثنا الھیثم یعنی ابن حمید عن سلیمان بن موسیٰ عن طاؤس قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یضع یدہ الیمنیٰ علیٰ یدہ الیسریٰ ثم یشد بھما علیٰ صدرہ وھو فی الصلاۃ" طاؤس تابعی سے (مرسل( روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں سینے پر ہاتھ رکھتے تھے۔(نن ابی داؤد مع بذل المجہود ۴۸۲/۴ ح ۷۵۹( سند کی تحقیق: اس روایت کے راویوں کی تحقیق درج ذیل ہے:

  • فونٹ سائز:

    ب ب