کتاب: نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام - صفحہ 37

"""قلت: والمرسل حجۃ عندنا" میں نے کہا: اور ہمارے نزدیک مرسل حجت ہے۔(اعلاء السنن ج۱ ص ۸۲ بحث المرسل( ۲۔ یہ روایت حسن روایت کے شواہد میں ہے۔ (ملاحظہ فرمائیں مقدمہ ابن الصلاح ص ۳۸ بحث المرسل( تنبیہ: السنن الکبری للبیہقی (۳۰/۲( میں محمد بن حجر الحضرمی سے روایت ہے کہ "حدثنا سعید بن عبدالجبار بن وائل بن حجر عن ابیہ عن امہ عن وائل بن حجر قال: حضرتُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ ثم وضع یمینہ علی یسراہ علی صدرہ" یہ روایت سخت ضعیف ہے: محمد بن حجر کی روایتیں منکر ہیں۔ ام عبدالجبار کی توثیق معلوم نہیں اور سعید بن عبدالجبار بھی مجروح ہے۔ (ملاحظہ ہو الجوہر النقی ۳۰/۲ اور میزان الاعتدال ۵۱۱/۳، ۱۴۷/۲( محمد بن حجر اور سعید بن عبدالجبار بقول ظفر احمد تھانوی صاحب مختلف فی التوثیق ہیں۔(اعلاء السنن ۷۰/۱( اور مختلف فیہ راوی تھانوی صاحب نزدیک حسن الحدیث ہوتا ہے۔ کماتقدم"""والجہالۃ فی القرون الثلاثۃ لا یضر علینا"خلاصۃ التحقیق خلاصۃ التحقیق

  • فونٹ سائز:

    ب ب