کتاب: نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام - صفحہ 38

خلاصۃ التحقیق قبیصہ بن ہلب والی روایت بلحاظ سند حسن لذاتہ ہے اور بلحاظ شواہد صحیح لغیرہ ہے۔اس تحقیق سے واضح اور ثابت ہو اکہ نماز میں مردوں اور عورتوں ، سب کے لیے ہاتھ سینے پر باندھنا ہی سنت ہے۔ واللہ الموافق آخر میں بعض دیوبندیوں کی ایک غلطی پر تنبیہ ضروری معلوم ہوتی ہے جسے علمی خیانت اور تحریف کہنا زیادہ مناسب ہے، تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مصنف ابن ابی شیبہ حال ہی میں کراچی کے ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ سے طبع ہوئی ہے، اس میں ایک حدیث اس طرح درج ہے: (وضع یمینہ علی شمالہ فی الصلوٰۃ تحت السرۃ (مصنف ۳۹۰/۱( طبع کرنے والوں کا فر ض تھا اور علمی امانت داری کا تقاضا تھا کہ وہ بتاتے کہ تحت السرۃ کے الفاظ انھیں کس نسخہ سے دریافت ہوئے ہیں تاکہ حدیث کے طالب علم اس نسخہ کے نسب نامہ پر نظر ڈال سکتے مگر انھوں نے ایسا کوئی حوالہ نہیں دیا۔ مصنف ابن ابی شیبہ کا جو نسخہ ۱۹۶۶ء بمطابق ۱۳۸۶ھ حیدرآباد (الہند( میں طبع ہواتھا، اس میں اس حدیث کا اختتام "علی شمالہ فی الصلوٰۃ" پر ہوا ہے اور اس میں "تحت السرۃ" کے الفاظ سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ • مصنف کے قدیم نسخوں میں یہ الفاظ موجود نہیں، علامہ محمد حیات سندھی کی گواہی عون المعبود (۴۶۲/۲( میں ثبت ہے کہ انھوں نے مصنف کے نسخہ میں الفاظ نہیں پائے۔ • استاذ محترم سید محب اللہ شاہ راشدی کے مکتبہ عامرہ میں مصنف کا قلمی نسخہ بھی اس اضافے سے خالی ہے۔ انور شاہ کشمیری فرماتے ہیں: "فانی راجعت ثلاث نسخ للمصنف فما وجدتہ فی واحدۃ منھا"۱۔ یہ حدیث امام وکیع کے واسطے سے مسند احمد (۳۱۶/۴ ح ۱۸۸۴۶( شرح السنۃ (۳۰/۳ ح ۵۶۹( اور سنن دارقطنی (۲۸۶/۱ ح ۱۰۸۸( میں موجود ہے لیکن تحت السرۃ کے الفاظ کسی روایت میں موجود نہیں ہیں۔ ۲۔ سنن نسائی (۱۲۵/۲، ۱۲۶ ھ ۸۸۸( اور سنن دارقطنی(۲۸۶/۱ح ۱۰۹۱( میں عبداللہ ۱۔ یہ حدیث امام وکیع کے واسطے سے مسند احمد (۳۱۶/۴ ح ۱۸۸۴۶( شرح السنۃ (۳۰/۳ ح ۵۶۹( اور سنن دارقطنی (۲۸۶/۱ ح ۱۰۸۸( میں موجود ہے لیکن تحت السرۃ کے الفاظ کسی روایت میں موجود نہیں ہیں۔ ۲۔ سنن نسائی (۱۲۵/۲، ۱۲۶ ھ ۸۸۸( اور سنن دارقطنی(۲۸۶/۱ح ۱۰۹۱( میں عبداللہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب