کتاب: نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام - صفحہ 51

تنبیہ(۱): سماک بن حرب (تابعی( رحمہ اللہ کے بارے میں ثابت کردیا گیا ہے کہ وہ جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ وصدوق ہیں۔ ان پر اختلاط والی جرح کا مفصل ومدلل جواب دے دیا گیا ہے کہ سفیان ثوری اور شعبہ وغیرہما کی ان سے روایت قبل از اختلاط ہے لہٰذا ان روایتوں پر اختلاط کی جرح مردود ہے۔ تنبیہ(۲): سما ک بن حرب اگر عکرمہ سے روایت کریں تو یہ خاص سلسلۂ سند ضعیف ہے۔ تنبیہ(۳): محمد عباس رضوی بریلوی نے لکھا ہے کہ " اس کا ایک راوی سماک بن حرب ۔ مدلس راوی ہے اور یہ روایت اس نے عن سے کی ہے اور بالاتفاق محدثین مردود ہوتا ہے۔ تنبیہ(۳): محمد عباس رضوی بریلوی نے لکھا ہے کہ " اس کا ایک راوی سماک بن حرب ۔ مدلس راوی ہے اور یہ روایت اس نے عن سے کی ہے اور بالاتفاق محدثین مردود ہوتا ہے۔ تنبیہ(۳): محمد عباس رضوی بریلوی نے لکھا ہے کہ " اس کا ایک راوی سماک بن حرب ۔ مدلس راوی ہے اور یہ روایت اس نے عن سے کی ہے اور بالاتفاق محدثین مردود ہوتا ہے۔ رضوی صاحب کا یہ کہنا کہ "سماک بن حرب مدلس" بالکل جھوٹ ہے۔ کسی محدث نے سماک کو مدلس نہیں کہا اور نہ کتب مدلسین میں سماک کا ذکر موجود ہے۔ رضوی صاحب کا یہ کہنا کہ "سماک بن حرب مدلس" بالکل جھوٹ ہے۔ کسی محدث نے سماک کو مدلس نہیں کہا اور نہ کتب مدلسین میں سماک کا ذکر موجود ہے۔ رضوی صاحب کا یہ کہنا کہ "سماک بن حرب مدلس" بالکل جھوٹ ہے۔ کسی محدث نے سماک کو مدلس نہیں کہا اور نہ کتب مدلسین میں سماک کا ذکر موجود ہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب