کتاب: نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام - صفحہ 6

شیعہ اور مقلد مالکیوں کے مقابلے میں اہل حدیث کا مسلک یہ ہے کہ ہر نماز میں حالت ِ قیام میں ہاتھ باندھنے چاہئیں۔اور دایاں ہاتھ بائیں ذراع پر رکھنا چاہیے۔ ہاتھ کہاں باندھے جائیں؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے ، اہل حدیث کے نزدیک نماز میں ناف سے اوپر سینے پر ہاتھ باندھنے چاہییں۔ امام بیہقی لکھتے ہیںامام بیہقی لکھتے ہیںامام بیہقی لکھتے ہیں: "باب وضع الیدین علی الصدر فی الصلوٰۃ من السنۃ" حافظ ابن عبدالبر لکھتے ہیں: "وقال الثوری وأبو حنیفۃ واسحاق : أسفل السرۃ، ورویٰ ذلک عی علی وابی ھریرۃ والنخعی ولا یثبت ذلک عنھم وھو قول أبی مجلز۔" ثوری، ابو حنیفہ اور اسحاق (بن راہویہ) کہتے ہیں کہ ناف سے نیچے ہاتھ باندھنے چاہییں(!) اور یہ بات علی ( رضی اللہ عنہ (اور ابو ہریرہ )رضی اللہ عنہ(اور )ابراہیم (نخعی )سے مروی ہے مگر ان سے ثابت نہیں ہے اور ابو مجلز کا یہی قول ہے۔ (التمہید ۷۵/۶۰( سعودی عرب کے مشہور شیخ عبداللہ بن عبدالرحمٰن الجبرین کی تقدیم و مراجعت سے چھپی ہوئی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ : "الصواب: السنۃ وضع الید الیمنیٰ علی الیسریٰ علی الصدر" صحیح یہ ہے کہ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر ، سینے پر رکھنا سنت ہے۔(القول المتین فی معرفۃ ما یہم المصلین ص ۴۹(دیوبندیوں وبریلویوں کا یہ دعویٰ ہے کہ "مردتو ناف سے نیچے ہاتھ باندھیں اور عورتیں سینہ پر ہاتھ باندھیں " حالانکہ اس دعویٰ کی کوئی صریح دلیل ان کے پاس نہیں ہے۔ دیوبندیوں وبریلویوں کا یہ دعویٰ ہے کہ "مردتو ناف سے نیچے ہاتھ باندھیں اور عورتیں سینہ پر ہاتھ باندھیں " حالانکہ اس دعویٰ کی کوئی صریح دلیل ان کے پاس نہیں ہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب