کتاب: نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام - صفحہ 9

دلیل نمبر۲:دوسرا گروہ کہتا ہے نما ز میں ارسال کرنا چاہیے (ہاتھ نہ باندھے جائیں) دوسرا گروہ کہتا ہے نما ز میں ارسال کرنا چاہیے (ہاتھ نہ باندھے جائیں) دوسرا گروہ کہتا ہے نما ز میں ارسال کرنا چاہیے (ہاتھ نہ باندھے جائیں) اس گروہ کی دلیل المعجم الکبیرللطبرانی میں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ارسال یدین کرتے تھے اور کبھی کبھار دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھتے تھے۔(مجمع الزوائد۱۰۲/۲( اس دلیل کا جائزہمعلوم ہوا کہ یہ سند موضوع (من گھڑت)ہے لہٰذا اس کا ہونا اور نہ ہونا برابر ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ سند موضوع (من گھڑت)ہے لہٰذا اس کا ہونا اور نہ ہونا برابر ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ سند موضوع (من گھڑت)ہے لہٰذا اس کا ہونا اور نہ ہونا برابر ہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب