کتاب: رمضان المبارک احکام و مسائل - صفحہ 11

ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس مہینے میں اپنی برکتوں اور رحمتوں کو عام کر دیا۔ ارشاد نبوی ہے اگر اللہ کے بندے رمضان کی فضیلت جان لیں تو میری امت سارا سال روزے رکھنے کی خواہش مند ہوتی۔ (بیہقی۔ ترغیب) اس لیے ہمیں بھرپور کوشش کرنا چاہیے کہ ان نعمتوں کو زیادہ سے زیادہ اپنے دامن میں سمیٹ لیں۔ استقبالی روزہ: بعض لوگ رمضان سے ایک یا دو روز قبل ہی روزہ رکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کے خیال کے مطابق وہ اس طرح رمضان کا استقبال کر رہے ہیں۔ حالانکہ یہ سراسر شیطانی فعل ہے۔ ہاں اگر کوئی شخض اپنے گذشتہ معمول کے مطابق روزے رکھتا چلا آ رہا ہو اور وہ دن اتفاقاً رمضان سے ایک یا دو روز قبل آ گیا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ مثلاً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر پیر اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔ اب اگر کوئی شخص سنت کے مطابق پیر اور جمعرات کو روزہ رکھتا ہے اور اتفاقاً یہ دن رمضان سے ایک دو روز قبل آ گیا تو ممانعت نہیں۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان سے ایک یا دو روز قبل پہلے کوئی آدمی روزہ نہ رکھے۔ البتہ وہ شخص جو اپنے معمول کے مطابق روزے رکھتا چلا آ رہا ہو وہ رکھ سکتا ہے۔ (متفق علیہ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رمضان المبارک کے علاوہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا مہینہ روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور شعبان کے ایام سے زیادہ کسی اور مہینہ میں روزے رکھتے بھی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا۔ (متفق علیہ) ماہ شعبان کے پہلے پندرہ دنوں میں روزے رکھنا مستحب ہے۔ پچھلے دنوں میں روزہ رکھنا مناسب نہیں تاکہ استقبالی روزوں سے مشابہت نہ ہو۔ فرضی روزہ کی فضیلت: رمضان کا مہینہ اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ یہ مہینہ تمام مہینوں کا سردار مہینہ ہے۔ اسی میں قرآن پاک نازل ہوا۔ اس میں ایک رات ایسی ہے جو کہ ہزار مہینوں

  • فونٹ سائز:

    ب ب