کتاب: رمضان المبارک احکام و مسائل - صفحہ 17

روزے کا مقصد روزے کا مقصد اللہ تعالیٰ نے حصول تقویٰ بیان فرمایا ہے: ﴿لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ١٨٣؁ۙ﴾ ’’تاکہ تم متقی بن جاؤ‘‘۔ تقویٰ یعنی نیکی کے کاموں میں خو ب بڑھ چڑھ کر حصہ لینا اور گناہوں سے اجتناب کرنا۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اللہ کے اوامر و نواہی پر عمل کرنا۔ اخلاق حسنہ کو اپنانا اور برے اعمال کو ترک کرنا۔ ماہ رمضان دراصل ایک ریفریشر کورس ہے۔ اس ایک مہینے میں انسان اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حلال اشیاء کو بھی اللہ کے بتائے ہوئے وقت کے مطابق چھوڑ دیتا ہے تو حرام اشیاء سے بچنا بالاولیٰ ضروری ہے۔ اس ایک ماہ کی ٹریننگ کو سال کے بقیہ 11ماہ میں اپنائے رکھنا چاہیے۔ جب اس عادت سے انسان انحراف کرنا شروع کرتا ہے تو پھر آیندہ سال کا رمضان اس کی یاد دہانی کے لیے آ جاتا ہے۔ اس طرح رمضان کے روزے کا مقصد فقط تقویٰ کا حصول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روزہ دار جب کسی گناہ کا ارادہ کرتا ہے تو روزے کو یاد کرتے ہی اس پر عمل کرنے سے باز رہتا ہے۔ اگر کوئی روزہ دار برے اعمال جھوٹ ، غیبت، گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑے سے پرہیزنہ کرے تو ایسے روزے کا کچھ ثواب اور فائدہ نہیں ہے۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: مَنْ لَّمْ یَدَعَ قَوْلَ الزُّوْرِوَالْعَمَل بِه فَلَیْسَ لِلّٰهِ حَاجَةٌ فِی اَن یَدَعَ طَعَامَه وشَرَابه (بخاری) ’’جس آدمی نے جھوٹ اور برے کام نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے‘‘۔ جھوٹ اتنا برا عمل ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان بزدل ہو سکتا ہے، بخیل ہو سکتا ہے مگر جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ جھوٹے کاموں سے مراد تمام حرام کام ہیں۔ حرام طریقوں سے رزق کمانے والے انسان کا تو کوئی عمل قبول نہیں۔ اس کی نماز ، عمرہ، حج، صدقہ، خیرات، دُعا کچھ بھی تو

  • فونٹ سائز:

    ب ب