کتاب: رمضان المبارک احکام و مسائل - صفحہ 24

افطاری کے مسائل سارا دن اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق گزار کر افطار کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام کا وقت ہوتا ہے۔ یہ وقت خصوصی طور پر قبولیت دُعا کا وقت ہے۔ غروب آفتا ب کے فوراً بعد افطار میں جلدی کرنا چاہیے۔ تاخیر سے روزہ افطار کرنا یہود و نصاریٰ کا کام ہے۔ موجودہ دور میں بھی یہ لوگ مسلمانوں سے پندرہ منٹ کی تاخیر سے روزہ افطار کرتے ہیں۔ بعض لوگ احتیاطی طور پر تین چار منٹ تک تاخیر کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ بات مناسب نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا یَزَالُ النَّاسُ بَخَیْرٍ مَّا عَجلُوا الْفِطْر (متفق علیه) ’’لوگ بھلائی پر قائم رہیں گے۔ جب تک افطارمیں جلدی کریں گے‘‘۔ ایک قدسی حدیث میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے محبوب بندے وہ ہیں جو افطار میں جلدی کرتے ہیں (ترمذی، احمد) تر کھجور سے افطار کرنا سنت ہے۔ اگر تر نہ ہو تو خشک کھجور (چھوہارہ) اور اگر یہ بھی نہ ہو تو پانی سے افطار کیا جائے۔ (احمد، ابو داؤد، ترمذی) اگر ان مذکورہ اشیاء میں سے کچھ بھی نہ میسر ہو تو کھانے پینے کی حلال اشیاء میں سے کسی سے افطار ہو سکتا ہے اور کچھ نہ ملنے کی صورت میں افطار کی نیت کر لینا ہی کافی ہے۔ جیسا کہ سیدناعثمان رضی اللہ عنہ کے بارے ملتا ہے کہ محاصرے کے آخری دنوں میں ان کے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز بھی نہ پہنچ سکتی تھی۔ چنانچہ وہ نیت سے ہی روزہ رکھتے اور نیت سے افطار کر لیا کرتے تھے۔ افطاری بسم اللہ پڑھ کر کریں اور بعد میں ان دعاؤں میں سے کوئی دعا پڑھ لیں۔ روزہ افطار کرنے کے لیے احادیث میں جو دعائیں ملتی ہیں۔ وہ یاد کر لینا چاہییں۔ اَللّٰهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلٰی رِزْقِكَ اَفْطَرُتُ (مشکوة شریف، کتاب الصوم بحواله سنن ابی داؤد) ’’اے اللہ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق پر افطار کیا‘‘۔ اس دُعا میں وَبك اٰمنْتُ وعلیك توکلت کے الفاظ حدیث میں نہیں۔ یہ دُعا عام طور پر مروج ہے مگر اس کی سند کمزور ہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب