کتاب: رمضان المبارک احکام و مسائل - صفحہ 25
عن عبداللّٰہ ابن عمر رضی اللہ عنہما قال کان رسول اللّٰہ اذا أفطر قال: ذَہَبَ الظَّمَاءُ وابْتَلَّتِ الْعُروْقُ وثَبَتَ الْاَجْرُ اِن شآءَ اللّٰہ (ابو داؤد) ’’عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب افطار کرتے تو فرماتے : پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہو گئیں اگر اللہ نے چاہا تو اجر ثابت ہو گیا‘‘۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے افطار کے وقت یہ دُعا بھی احادیث میں ملتی ہے۔ اللّٰہُمَّ لَکَ صُمْنَا وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْنَا، فَتَقَبّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمیْعُ الْعَلِیْمُ (ابو داؤد) ’’اے اللہ ہم نے تیرے لیے ہی روزہ رکھا، تیرے رزق پر افطار کیا۔ پس ہم سے قبول فرما۔ بے شک تو سننے والا جاننے والا ہے‘‘۔ کسی روزہ دار کا روزہ افطار کروانے والے کو روزہ افطار کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔ چاہے وہ پانی سے ہی کیوں نہ افطار کروائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ فَطَّرَ صَآئِمًا اَوْ جَہَّزَ غَازِیًا فَلَہ مِثْلُ اَجْرِہ (بیہقی) ’’جس نے کسی روزہ دارہ کو روزہ افطار کروایا یا کسی غازی کا سامان تیار کر دیا تو اس کو اس کے برابر اجر ملے گا‘‘۔ مَنْ فطَّرَ صَآئِمًا کَانَ لَہ مَغْفِرَةٌ لِّذُنُوْبِہ وَعِتْقُ رَقَبَتِہ مِنَ النَّارِ وَکَان لَہ مِثْلُ اَجْرِہ مِنْ غَیْرِ اَنْ یُّنْقَصَ مِنْ اَجْرِہ شَیئ۔ (بیہقی) ’’جو کسی روزہ دار کا روزہ افطار کروا دے تو اس کے گناہ معاف ہو جائیں گے۔