کتاب: رمضان المبارک احکام و مسائل - صفحہ 39

سال 4ماہ کی عبادت سے بہتر ہے۔ اس رات میں جو فرشتے نازل ہوتے ہیں وہ ساری رات اللہ کی عبادت کرنے والوں کے لیے امن و سلامتی کی دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس رات میں جو فیصلے کیے جاتے ہیں سارے خیر و سلامتی پر مبنی ہوتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اس کی بھلائی سے محروم رہنے والا حقیقی بد قسمت ہے۔ (احمد) شب قدر کی تعیین نہ ہونے کا سبب لڑائی جھگڑا ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں شب قدر کے بارے خبر دینے کے لیے تشریف لا رہے تھے کہ دو مسلمان آپس میں جھگڑا کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آیا تھا تاکہ تمھیں شب قدر بتا دوں لیکن فلاں فلاں کے جھگڑے کی وجہ سے اس کا علم اٹھا لیا گیا۔ اُمید ہے کہ تمھارے حق میں یہی بہتر ہو گا۔ (بخاری) لیلۃ القدر کی علامات: لیلۃ القدر کی صبح کو سورج کے بلند ہونے تک اس کی شعاع نہیں ہوتی۔ وہ ایسے ہوتا ہے جیسے تھالی (مسلم) ایک دوسری حدیث میں ہے۔ تم میں سے کون اسے یاد رکھتا ہے۔ اس رات جب چاند نکلتا ہے تو ایسے ہوتا ہے جیسے بڑے تھال کا کنارہ (مسلم) ایک اور حدیث میں ہے کہ لیلۃ القدر آسان اور معتدل رات ہے، جس میں نہ گرمی ہوتی ہے نہ سردی۔ اس کی صبح سورج اس طرح طلوع ہوتا ہے کہ اس کی سرخی مدہم ہوتی ہے۔ (ابن خزیمہ، مسند بزار) لیلۃ القدر کی دعا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میں لیلۃ القدر کو پالوں تو اللہ تعالیٰ سے کیا دُعا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: اَللّٰهُمْ اِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ (ترمذی، ابن ماجة) ’’اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے۔ معافی کو پسند کرتا ہے مجھے بھی معاف فرما دے‘‘۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب