کتاب: رمضان المبارک احکام و مسائل - صفحہ 40

صدقہ فطر صدقہ فطر یا فطرانہ ہر مسلمان پر واجب ہے۔ وہ مرد ہو یا عورت، آزاد ہو غلام، چھوٹا ہو یا بڑا حتیٰ کہ عید کی رات پیدا ہونے والے بچے اور گھر آئے ہوئے مہمان کا فطرانہ بھی میزبان کو ادا کرنا چاہیے۔ اگر اُس نے خود اپنے گھر میں ادائیگی نہ کی ہو۔ ہاں، جس کے پاس ایک دن و رات کے لیے اپنی خوراک سے زیادہ اناج نہ ہو اس پر صدقہ فطر واجب نہیں ہے۔ یہ روزے کے دوران ہونے والی کمی کوتاہی یا لغزش کے ازالے کے لیے فرض کیا گیا ہے۔ اس سے نادار اور حاجت مندوں کو بھی سامان خوردو نوش مہیا ہو جاتا ہے۔ صدقہ فطر کے بھی وہی لوگ مستحق ہیںجو زکوٰۃ کے مستحق ہیں۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: عن ابن عباس رضی الله عنهما قال فَرضَ رَسُوْلُ اللّٰه زکاة الفِطْرِ طُهْرةً للصَّآئِم مِنَ اللَّغُو والرَّفَثِ وطُعْمَةً لِلْمَسَاکِیْن فَمَنْ اَدَّاهَا قَبْلَ الصَّلٰوةِ فَهِیَ زَکوةٌ مَقْبُوْلةٌ ومن ادَّاهَا بعد الصَّلٰوةِ فهی صَدَقَةٌ من الصدقاتِ (احمد، ابن ماجه) ’’سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ فطر روزہ دار کو بے ہودگی اور فحش باتوں سے پاک کرنے کے لیے نیز محتاجوں کے کھانے کا انتظام کرنے کے لیے فرض کیا گیا ہے۔ جس نے اسے نماز عید سے قبل ادا کیا اس کا صدقہ فطر ادا ہوگیا۔ جس نے نماز عید کے بعد ادا کیا تو اس کا صدقہ فطر نہیں بلکہ عام صدقہ شمار ہو گا‘‘۔ صدقہ فطر ادا کرنے کا وقت آخری روزہ افطار کرنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اگر کوئی عید سے ایک دو دن قبل ادا کر دے تو اس کا بھی صدقہ ادا ہو جائے گا۔ اس کی مقدار ایک صاع یعنی ڈھائی کلو گرام کے برابر ہے۔ انسان جو بھی غلہ معمول کے مطابق کھاتا ہے اسی سے بقدر ڈھائی کلو فی کس ادا کیا جائے گا۔ اتنے وزن کے غلہ کی قیمت دینا بھی جائز ہے۔ مگر غلہ کی صورت میں دینا افضل ہے۔ حدیث میں جو اشیاء مذکور ہیں ان میں کسی ایک سے بھی ادائیگی کی جا سکتی ہے۔ حدیث میں ہے: عن ابی سعید الخدری رضی الله عنه قال: کنا نُخرج زَکوٰة الْفِطْرِ صاعًا مِنْ طَعَامٍ اَوْ صَاعًا مِنْ شَعِیْرٍ اَوْ صَاعًا مِنْ تمرٍ اَوْصَاعًا مِنْ اَقْطٍ اوصاعًا من زَبیْبٍ (متفق علیه) ’’سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم صدقہ فطر ایک صاع غلہ یا ایک صاع جو یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع منقہ یا ایک صاع پنیر دیا کرتے تھے‘‘۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب