کتاب: رمضان المبارک احکام و مسائل - صفحہ 41
نفلی روزے رمضان کے فرضی روزوں کے علاوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سارا سال ہر مہینے ایام بیض کے روزے رکھتے۔ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنا بھی اُن کا معمول تھا۔ اس کے علاوہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وقتاً فوقتاً روزے رکھنا ثابت ہے۔ روزہ رکھنے کا عمل اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ اس لیے اس کا اجر بھی بہت زیادہ ہے۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: عن ابی سعید رضی اللہ عنہ قال سمعت النَّبِی یقول: مَنْ صَامَ یَوْمًا فی سبیل اللہِ بَاعَدَ اللّٰہُ وَجْہَہ عَنِ النَّارِ سَبْعِیْنَ خَرِیْفًا (متفق علیہ) سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔ جو ایک دن اللہ کے راستے میں روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اسے ستر سال کی مسافت کے برابر جہنم کی آگ سے دور کر دیں گے۔ مَن صَامَ یَومًا ابْتِغَاءَ وَجْہِ اللّٰہ بَاعَدَہُ اللّٰہُ من جَہَنَّمَ (بیہقی) ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے ایک دن کا روزہ رکھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم سے دور رکھے گا‘‘۔ محرم کے روزے: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے بعد سب سے زیادہ افضل محرم کے روزے کو قرار دیا۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: عن ابی ہریرة رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ افضل الصیام بعد رمضان شہر اللّٰہ المحرم و افضل الصلاة بعد الفریضة صلاة اللیل (مسلم) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان کے بعد افضل روزہ اللہ کے مہینے محرم کا ہے اور فرض نماز کے بعد افضل نماز تہجد کی نماز ہے‘‘۔