کتاب: رمضان المبارک احکام و مسائل - صفحہ 42

سیدنا ابوقتادہ بیان فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عاشورہ (دس محرم) کے روزے کے بارے سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یُکفِّر السّنَة الماضیة یعنی یہ گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم نے فرمایا: اگر میں آیندہ سال تک زندہ رہا تو ۹ محرم کا روزہ ضرور رکھوں گا۔ (مسلم) یہود چونکہ فرعون سے نجات پانے کی خوشی میں ۱۰ محرم کو روزہ رکھتے تھے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کی مخالفت اختیار کرنے کے لیے ساتھ ۹ محرم کے روزے کا بھی عزم فرمایا اور اس کا حکم بھی دیا۔ ایک روایت میں ہے کہ تم عاشورے کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرتے ہوئے اس کے ساتھ ایک دن قبل یا بعد کا روزہ بھی رکھو۔ اس لیے اب دو روزے رکھنے مسنون ہیں۔ جب رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو رخصت دے دی کہ اب جو چاہے 10 محرم کا روزہ رکھے جو چاہے نہ رکھے۔ یعنی اب کوئی صرف 9 محرم کا روزہ رکھ لے تو بھی اس کے لیے جواز ہے۔ اگر دس کے ساتھ پہلے یا بعد کا روزہ رکھے یعنی دو روزے رکھے تو بھی جائز ہے۔ شعبان کے روزے: عن عائشة رضی الله عنها قالت لم یکن النبی یصوم من شهر اکثر من شعبان فانه کان یصوم شعبان کُلَّه و فی روایة۔ کان یصوم شعبان اِلا قلیلا (متفق علیه) ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ نفلی روزے نہیں رکھتے تھے۔ بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کا پورا مہینہ روزہ رکھتے تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوائے چند دنوں کے شعبان کے باقی روزے رکھتے تھے‘‘۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب