کتاب: رمضان المبارک احکام و مسائل - صفحہ 44

’’سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کے مقابلے میں دوسرے کوئی ایام ایسے نہیں جن میں نیک عمل اللہ کو ان دنوں سے زیادہ محبوب ہو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ، اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں۔ سوائے اس مجاہد کے جو اپنی جان اور مال لے کر (جہاد کے لیے) نکلا اور پھر کسی چیز کے ساتھ واپس نہیں آیا‘‘۔ عن ابی قتاده رضی الله عنه قال سئل رسولُ اللّٰه عَن صوم یَومِ عَرَفة فقال یُکفِّر السَّنَةَ الْمَاضِیَةَ وَالْبَاقِیَةَ (مسلم) ’’سیدنا ابو قتادہ بیان فرماتے ہیں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرفہ (۹ ذوالحجہ) کے روزے کی بابت سوال کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ گزشتہ اور آیندہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے‘‘۔ ۹ ذوالحجہ کو حاجی عرفات کے میدان میں دقوف کرتے ہیں۔ یہ حج کا رُکن ہے۔ یہ روزہ حجاج کرام کے لیے مشروع نہیں۔ غیر حاجیوں کے لیے اس دن کے روزے کی فضیلت یہ ہے کہ یہ دو سالوں کے صغیرہ گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ ذوالحجہ کے پہلے دس دن بڑی فضیلتوں اور برکتوں کے حامل ہیں۔ ان میں تمام نیک اعمال کی طرح روزہ رکھنا بھی اجروثواب کا باعث ہے۔ 9 ذوالحجہ کا روزہ حجاج کرام کے لیے جائز نہیں جبکہ دس ذوالحجہ کا روزہ سب مسلمانوں کے لیے ممنوع ہے۔ سوموار اور جمعرات کا روزہ: عن ابی قتاده رضی الله عنه اَنَّ رَسول اللّٰه سئِل عن صوم یوم الاثنین فقال: ذلك یوم ولِدْتُ فیه و یوم بُعثِتُ اَوْ اُنْزِلَ عَلَیَّ فیه (مسلم) ’’سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم سے سوموار کے روزے کی

  • فونٹ سائز:

    ب ب