کتاب: رمضان المبارک احکام و مسائل - صفحہ 54

رمضان اور زکوٰۃ: رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ کے بے پایاں انعامات و احسانات کی وجہ سے اکثر لوگ اس ماہ میں اپنی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اس لیے مجھے مناسب معلوم ہوا کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے بنیادی مسائل بھی بیان کر دئیے جائیں۔ قرآن مجید میں تقریباً 82 جگہ زکوٰۃ ادا کرنے کا تاکیدی حکم آیا ہے۔ اکثر جگہ نماز ا ور زکوٰۃ کا حکم ساتھ ساتھ آیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ﴾ ’’نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو‘‘۔ ادائیگی زکوٰۃ گناہوں کا کفارہ اور بلندی درجات کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا: ﴿خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَـةً تُطَهِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْهِمْ بِهَا ﴾ (التوبۃ: ۱۰۳) ’’اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! تم ان کے اموال میں سے زکوٰۃلو تاکہ ان کو (گناہوں سے) پاک کرو۔ اور ان کا تزکیہ کرو‘‘۔ وہ مال جو کسی کی ضروریات سے زائد ہو اور اس پر ایک سال قمری گزر جائے تو اس پر ڈھائی فیصد یا چالیسواں حصہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں دینا فرض ہے۔ زکوٰۃ نقد مال، سونا چاندی، جانور جو کاروبار کے لیے رکھے گئے ہوں اس کے علاوہ تجارتی مال پر فرض ہے۔ زکوٰۃ کا نصاب: نصاب سے مراد وہ مال ہے جس پر زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے۔ سونا ساڑھے سات تولے۔ چاندی ساڑھے باون تولے۔ سونا چاندی کے بنے ہوئے زیورات چاہے وہ زیر استعمال ہوں یا نہیں۔ ہر دو صورت میں زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے۔ میرے ہاتھ میں چاندی کی انگوٹھی دیکھ کر فرمایا: عائشہ! یہ کیا ہے۔ فرمایا: اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے زینت کی خاطر

  • فونٹ سائز:

    ب ب