کتاب: رمضان المبارک احکام و مسائل - صفحہ 55

تیار کروایا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی زکوٰۃ دیتی ہو۔ فرمایا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے جہنم میں پہنچانے کے لیے یہ کافی ہے۔ (ابوداؤد، بیہقی) چالیس سے لے کر۱۲۰ بکریوں تک ایک بکری زکوٰۃ واجب ہے۔ ۳۰ گائیوں پر ایک سال کا بچھڑا یا بچھڑی زکوٰۃ واجب ہے۔ پانچ اونٹوں پر بھی ایک بکری زکوٰۃ واجب ہے۔ قدرتی ذرائع سے سیراب ہونے والی زمین کی پیداوار کے لیے شرح زکوٰۃ دسواں حصہ(عشر) ہے۔ مصنوعی ذرائع (کنواں، ٹیوب ویل، نہر وغیرہ) سے سیراب ہونے والی زمین کی پیداوار کے لیے شرح زکوٰۃ بیسواں حصہ ہے۔ ذاتی استعمال ہونے والے مویشی یا گھر میں دودھ کے لیے رکھی گئی گائے بھینس پر زکوٰۃ نہیں ہو گی۔ تمام سامان تجارت میں زکوٰۃ واجب ہے۔ بشرطیکہ اس سامان کی مالیت حد نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر سال مکمل ہو جائے۔ اس نصاب پر سال پورا ہوتے ہی اس کی مالیت کا چالیسواں حصہ زکوٰۃ میں نکالا جائے۔ قیمت لگاتے وقت تمام چھوٹے بڑے سامان تجارت کو شمار کیا جائے پھر ان کی مجموعی رقم سے زکوٰۃ نکالی جائے۔ کرایہ پر دئیے گئے مکانات، دکانات یا گاڑی وغیرہ کے کرائے پر زکوٰۃ ہو گی۔ خواہ وہ بذات خود نصاب تک پہنچ جائے یا دوسری چیزوں کے ساتھ مل کر پہنچے اور ساتھ ہی اس پر سال گزر جائے۔ اس سے قبل اس پر زکوٰۃ نہ ہو گی۔ زکوٰۃ کے مصارف: زکوٰۃ کے آٹھ مصارف ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرما دئیے ہیں۔ ﴿اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۭفَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ 60؀﴾ (التوبة : ۶۰)

  • فونٹ سائز:

    ب ب