کتاب: رمضان المبارک احکام و مسائل - صفحہ 56

’’بے شک صدقات فقرائ، مساکین، اس پر کام کرنے والے، جن کے دلوں کی تالیف مطلوب ہو۔ قیدی آزاد کرانے میں، مقروض لوگوں کے لیے، اللہ کے راستہ میں اور مسافروں کے لیے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ جاننے والے حکمت والے ہیں‘‘۔ فقراء سے مراد وہ لوگ جن کے پاس اتنا مال نہیں ہوتا کہ اپنے کنبہ کی ضروریات کو پورا کر سکیں۔ مقروض وہ جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی میں مقروض نہیں ہوا اور وہ جو کسی تاوان کی وجہ سے مقروض ہو گیا ہو۔ زکوٰۃ اپنے قریبی لوگوں کو دی جانی چاہیے۔ اگر کوئی رشتہ دار مستحق ہو تو اسے دینا دوہرے اجر کا باعث ہے۔ زکوٰۃ کو تمام مصارف پر استعمال کرنا ضروری نہیں ہے۔ آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے زکوٰۃ حلال نہیں ہے۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور منہ میں ڈالی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پھینک دو، کیا تمھیں معلوم نہیں کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے۔ (متفق علیہ) زکوٰۃ کس کو نہیں دی جا سکتی؟ کوئی انسان اپنے زیر کفالت لوگوں کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا۔ مثلاً والدین، بیوی بچے وغیرہ۔ اس طرح غنی اور تندرست کے لیے زکوٰۃ لینا جائز نہیں ہے۔ غیر مسلم کو بھی زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی۔ زکوٰۃ کی نیت و ارادہ سے کسی محتاج شخص کے قرض کو معاف کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ زکوٰۃ میں لینا اور دینا دونوں ضروری ہیں۔ فرمایا گیا: مسلمان مال دار سے زکوٰۃ لی جائے اور غرباء و مساکین پر خرچ کی جائے۔ زکوٰۃ نہ ادا کرنے والوں کا حکم: زکوٰۃ کا انکار کرنے والا کافر ہے۔ اسی لیے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مانعین زکوٰۃ سے جنگ اور قتال کیا۔ اگر کوئی اپنے بخل یا لاپرواہی کی وجہ سے زکوٰۃ نہیں دیتا تو گناہگار ہے۔ اس سے زبردستی زکوٰۃ وصول کی جائے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو روز قیامت سخت سزا دیں گے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ﴿ وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ 34؀ۙ يَّوْمَ يُحْمٰي عَلَيْهَا فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰي بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوْبُهُمْ وَظُهُوْرُهُمْ ۭهٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ 35؀﴾ (التوبة : ۳۴، ۳۵)

  • فونٹ سائز:

    ب ب