کتاب: روزہ حقیقت و ثمرات - صفحہ 18

ایسا شمسی مہینہ تجویز کرلیا جو ہمیشہ موسمِ بہار میں آئے۔ قولہ تعالیٰ:{اِتَّخَذُوْا اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ أَرْبَا بًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ}(التوبہ :۳۱) ترجمہ:(ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایاہے) میں یہود ونصاری کی اس قسم کی باطل روش کی تفنید وتردید ہے۔ اس لحاظ سے امت محمدیہ بے شمار آفرین اور شاباش کی مستحق ہے کہ جس نے سابقہ اقوام کی روش کے بالکل برعکس روزے کا حق ادا کردیا،اور کسی بھی مقام پر کسی بھی موسم کی شدت یا روزے کی طوالت ان کے آڑے نہ آسکی اور نہ ہی کسی قسم کی رکاوٹ بن سکی (فللّٰہ الحمد والمنۃ) اُمتِ محمد یہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ر و ز ہ کب فرض ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت پرپیر کے دن ۲ شعبان ۲ھ میں روزہ فرض فریا،گویا رسول اللہ کی بعثت کے پندرھویں سال روزے کی فرضیت نازل ہوئی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ ومبارکہ میں نو مرتبہ رمضان کا مہینہ آیا۔ روزے کی فرضیت میں اسقدر تاخیر کا سبب بیان کرتے ہوئے علامہ جمال الدین القاسمی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’ ولما کان فطم الناس عن مألوفاتھا وشھواتھامن أشق الأموروأصعبھا تأخر فرضہ إلی وسط الاسلام بعد الھجرۃ لما توطنت النفوس علی التوحید والصلاۃ وألفت أوامر القرآن ،فنقلت إلیہ بالتدریج…‘‘(محاسن ا لتأویل۳/۴۱۶)

  • فونٹ سائز:

    ب ب