کتاب: روزہ حقیقت و ثمرات - صفحہ 21

ترجمہ:(جوشخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کیلئے چھٹکارے کی شکل نکادیتا ہے،اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو) تقویٰ،وقایۃ سے ہے،وقایۃ کا معنی کسی چیز سے بچاؤ حاصل کرنا۔ تقویٰ دنیا میں گناہوں سے بچاؤ کا بڑا مؤثر اور کارگر عامل اور مضبوط ترین ہتھیار ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت سے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان منقول ہے:[یامعشر الشباب من استطاع منکم الباء ۃ فلیتزوج فانہ أغض للبصر وأحصن للفرج ومن لم یستطع فعلیہ بالصیام فانہ لہ وجاء] ترجمہ:[اے نوجوانو!تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہے وہ ضرور نکاح کرلے(کیونکہ نکاح اس کی شرمگاہ کی حفاظتی …اورنگاہوں کی عفت کا باعث ہے) اور جسے نکاح کی طاقت نہیں وہ روزے رکھے،کیونکہ روزہ اس کی شہوت کی حدت اور شدت کو ماند کردے گا] اس کی وجہ بتلاتے ہوئے امام قرطبی فرماتے ہیں:(ترجمہ) ’’ …کیونکہ ترکِ طعام یا قلتِ طعام سے حسِ شہوت کمزور ہوگی،اور شہوت کی کمزوری سے معصیتوں کا صدور کم سے کم رہ جائیگا…‘‘ اسی لئے ایک حدیث میں روزہ کو ڈھال کہاگیا ہے،یعنی ایسی ڈھال جوروزے دار کا گناہوں سے دفاع کرتی ہے،چنانچہ حافظ ابن خزیمہ اپنی صحیح میں روایت لائے ہیں: عن عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ قال:سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول:[الصیام جنۃ من النار کجنۃ أحدکم من القتال](۳/۱۸۹۱)

  • فونٹ سائز:

    ب ب