کتاب: روزہ حقیقت و ثمرات - صفحہ 22

عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:[روزہ جہنم کی آگ کے خلاف ڈھال ہے،جیسے جنگ میں تم دشمن کے خلاف ڈھال استعمال کرتے ہو] جبکہ مسند احمد (۲/۴۰۲) میں ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یوں منقول ہے : [الصیام جنۃ وحصن حصین من النار]یعنی[روزہ جہنم کی آگ سے بچانے کیلئے ایک مضبوط ڈھال اور محفوظ ترین قلعہ ہے] واضح ہوکہ جہنم کی آگ سے بچاؤ تب ہی ممکن ہوگا جب دنیا میں گناہوں سے بچاؤ حاصل ہو ،اس کیلئے روزہ زبردست معاون ہے۔بالفاظِ دیگر روزے دار کیلئے دورانِ روزہ معصیتوں سے گریزاں رہتے ہوئے صرف ایسے اعمال سرانجام دینا ضروری ہیں جو نیکی ،اطاعت اور خیر وصلاح کے زمرے میں آتے ہوں۔ الغرض روزہ ایک ایسی یونیورسٹی ہے جو انسان کی گناہوں سے بچاؤ کی اساس پر مسلسل تربیت کرتے کرتے اسے کندن بنادیتا ہے۔تربیت کا یہی معیار و مستویٰ ، عین تقویٰ ہے،جسے روزے کی مقصدیت کے طورپر {لعلکم تتقون} کے الفاظ سے بیان کیا گیا ہے۔یہی تقویٰ ر وزے کی، بلکہ ہر نیکی کی قبولیت کی علامت ہے، لقولہ تعالیٰ{إِنَّمَا یَتَقَبَّلَ اللہ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ}(المائدۃ:۲۷)

  • فونٹ سائز:

    ب ب