کتاب: روزہ حقیقت و ثمرات - صفحہ 24
’’تیسیر العزیز العلام شرح عمدۃ الاحکام‘‘(۱/۴۲۱) میں انتہائی جامعیت کے ساتھ روزہ کی دینی،اجتماعی ،اخلاقی اور صحتِ انسانی کے متعلق کچھ حکمتیں بیان فرمائی ہیں،انہی کے نفیس کلام کا خلاصہ ملاحظہ کیجئے۔ ’’ روزہ کے مکمل اسرار وحکم اس مختصرسی کتا میں ہرگز نہیں سماسکتے ہم ان بہت سی حکمتوں میں سے کچھ کا ذکر کرتے ہیں تاکہ قارئین کرام کو اللہ تعالیٰ کے اسرارِشریعت سے کچھ آگاہی ہو ،اس طرح ان کے ایمان اور یقین میں اضافہ ہوجائے،جبکہ آج اکثر لوگوں کا عقیدہ وایمان ڈگمگا رہا ہے ۔ روزہ کی بلند ترین حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان عبادت ہے ،چنانچہ روزہ دار غلبہ شہوت کا قلع قمع کرتے ہوئے مکمل خشوع وخضوع کے ساتھ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہے،اور ظاہر ہے کہ نفسِ انسانی جب خوب سیر ہو تو اسے مستی سوجھتی ہے[کَلَّا اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰی۔أَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰی } ترجمہ:(سچ مچ انسان تو آپے سے باہر ہوجاتاہے،اس لئے کہ وہ اپنے آپ کو بے پرواہ (یاتونگر) سمجھتا ہے)(العلق:۶،۷) لیکن روزہ رکھ کر انسان جب بھوک اور پیاس کی شدت کی بناء پر اپنے عجز وضعف کو ملاحظہ کرتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ نفس کے کِبر اور بڑائی کی تو کوئی حقیقت نہیں،نتیجۃً وہ اپنے رب کیلئے بھی مسکین ورقیق القلب ہوجائے گا،اور مخلوقات کیلئے بھی نرم دل۔