کتاب: روزہ حقیقت و ثمرات - صفحہ 25

روزہ کی اجتماعی حکمت یہ ہے کہ پوری خلق ایک ہی وقت میں ایک عبادت پر مجتمع ہوتی ہے ،چنانچہ خواہ کوئی طاقت ور ہویا کمزور،شریف ہو یا وضیع، مالدار ہویافقیر سب نے ایک ساتھ ہی روزہ شروع کرنا ہے اورایک ہی وقت میں افطار کرنا ہے ،سب نے اکٹھے بھوک اور پیاس کی تکلیف کو جھیلنا ہے …یہ چیز قلو ب وارواح میں باہمی ربط، الفت اور محبت پیدا کرنے کا عظیم سبب بن جائے گی،لوگ ایک دوسرے کے ساتھ شفقت ور حمت کا برتاؤ کرینگے،بالخصوص مالدار کہ جنہیں بھوک اور پیاس برداشت کرکے معاشرہ کے غریب،تباہ حال اور پسے ہوئے اپنے بھائیوں کی بھوک اور پیاس کا احساس ہوگا…وہ یہ بات سوچنے پر مجبور ہوگا کہ وہ بھوک اور پیاس جسے اس نے صرف ایک ماہ مشکل سے برداشت کیا ،اس کا غریب بھائی اور اس کا پورا کنبہ پورا سال برداشت کرتا اور جھیلتاہے،اس سے یقینا اس کے دل میں سخاوت کا احساس پیدا ہوگا،دلوں کی تفریق ،عداوتیں اور رنجشیں دور ہونگی،ان کی جگہ محبت اور بھائی چارہ کی فضاء استوار ہوگی،نتیجۃً تمام طبقاتِ انسانی میں وہ سلامتی رائج ہوجائے گی جو دینِ اسلام کو مطلوب ہے ۔ روزہ کی اخلاقی وتربوی حکمت یہ ہے کہ صبر وتحمل کا درس دیتا ہے، عزیمت و اراد ہ کو قوت واستحکام بخشتا ہے، مشاکل ومصائب کا حملہ ہوتو خندہ پیشانی سے جھیلنے بلکہ ان کا مقابلہ کرکے انہیں زیر کرنے کی ٹریننگ دیتا ہے۔ روزہ صحتِ انسانی کے تعلق سے بڑی پُر حکمت عبادت ہے ،چنانچہ انسانی معدہ بیماریوں کا گھر ہے اورپرہیز (خلوِمعدہ) تمام دواؤں کی سردار ہے،معدے کو آرام وراحت کا وقفہ چاہئے،کیونکہ بلاناغہ اور مسلسل کھانے پینے کی وجہ سے وہ بُری طرح تھکاوٹ کا شکار ہوجاتا ہے،لہذا اس طویل ترین مشقت کے بعد اسے اس کے آرام کا مکمل حصہ دستیاب ہونا چاہئے تاکہ وہ استراحت کے اس وقفہ میں جسم سے زائد فضلات اور فاسد اخلاط کو جارج کرکے ،نیز جسم میں جمی ہوئی زائد چربی کو پگھلا کر ازسرِ نو ہضمِ طعام کیلئے فعال اور روادواں ہوجائے۔‘‘(انتہیٰ بتغیر یسیر)

  • فونٹ سائز:

    ب ب