کتاب: روزہ حقیقت و ثمرات - صفحہ 28

واضح ہوکہ روزے کے اسرار وحکم بہت طویل ہیں،ہم اس مختصر سے رسالہ میں اسی قدر پر اکتفاء کرتے ہیں اور اس بحث کو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو نقل کرکے سمیٹتے ہیں: {قُلْ أَنْزَلَہُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ إِنَّہٗ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا} (الفرقان:۶) ترجمہ: (کہہ دیجئے اسے تو اس اللہ نے اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کی تمام پوشیدہ باتوں کوجانتاہے ،بے شک وہ بڑاہی بخشنے والامہربان ہے) گویا اللہ تعالیٰ ہرچیزکے اسرار وحکم کو جانتا ہے ،اگروہ کسی چیزکا حکم دیتا ہے تو دنیا وآخرت میں اس کی افادیت ومنفعت کے تعلق سے اس کے اسرار ورموز جانتا ہے، تب ہی اس عمل کے انجام دینے کا حکم ارشاد فرماتا ہے … اوراگر کسی چیز سے روکتا ہے تو دنیا وآخرت میں اس کے اضرار ومفاسدکے تعلق سے اس کے اسرارسے واقف

  • فونٹ سائز:

    ب ب