کتاب: روزہ حقیقت و ثمرات - صفحہ 33

کیلئے قدرے تفصیل سے ان کی وضاحت پیش کرنا چاہتے ہیں: پہلی فضیلت: پہلی فضیلت کا تعلق روزہ کے اجر سے ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ ہر نیکی کا اجروثواب دس گنا سے لیکر سات سو گنا تک بڑھایا جاتاہے جو یقینا بہت بڑا ثواب ہے،لیکن روزہ کا اجر اس معین تعداد میں محدود یا محصور نہیں ہے ،بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے اجر میں بلاحصر وشمار اضافہ فرمادیتا ہے۔ اس طرف قرآنِ حکیم نے بھی اشارہ کیا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {إِنَّمَا یُوَفَّی الصَّابِرُوْنَ أَجْرَھُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ}(الزمر:۱۰) یعنی( صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیا جاتا ہے۔) یہ بات معلوم ہے کہ صبر کا سب سے بڑا مظہر روزہ ہے، ایک حدیث میں روزہ کو پورے صبر کا نصف قرار دیا گیا ہے؛کیونکہ روزہ وہ عبادت ہے جو صبر کی تینوں اقسام کو جمع کئے ہوئے ہے، صبر کی تین قسمیں یہ ہیں: (۱) صبر علی طاعۃ اللہ ،یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت پر صبر ،چنانچہ روزہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرض ہے، اور بندہ پورے صبر کے ساتھ اس حکم کی تعمیل کرتا ہے۔ (۲) صبر عن محارم اللہ ،یعنی جن چیزوںکو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمادیا ان کے ترک پر پورے صبر کے ساتھ قائم رہنا،چنانچہ روزہ کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے اور شہواتِ نفس کو حرام قرار دے دیا ہے،روزہ دار ان تمام چیزوں کو پورے صبر کے ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ (۳) صبر علی اقدار اللہ المؤلمۃ،یعنی اللہ تعالیٰ نے تقدیر میں انسان کیلئے جو تکالیف لکھ دی ہیں انہیں پورے صبر واستقامت کے ساتھ برداشت کرنا،چنانچہ روزہ دار کو روزہ کی حالت میں بھوک اور پیاس کی تکلیف لاحق ہوتی ہے،بالخصوص اس وقت جب دن انتہائی گرم اور طویل ہو۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب