کتاب: روزہ حقیقت و ثمرات - صفحہ 38

لئے اللہ تعالیٰ نے روزہ کو اپنی ذات کیلئے خاص فرمالیا۔ حد یث میں مذ کور د و سر ی فضیلت [ للصائم فرحتان …الحدیث] یعنی روزہ دار کیلئے دوخوشیاں ہیں :ایک افطار کے وقت دوسری اس وقت جب وہ اپنے رب سے جاملے گا ۔ افطار کے وقت خوشی حاصل ہونے کے کئی اسباب ہیں:ایک یہ کہ دن بھر بھوک اور پیاس کی تکلیف برداشت کرنے کے بعد اب کھانے اور پینے کاوقت آگیا،تو خوشی کا حاصل ہونا ایک طبعی امر ہے۔خوشی حاصل ہونے کا دوسرا سبب اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے،چنانچہ روزہ دار نے اگر کھاناپینا چھوڑا تو اللہ کے حکم سے اور اب کھاناپینا شروع کررہا ہے تو وہ بھی اللہ کے حکم سے،اورظاہر ہے کہ ایک مؤمن اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی تعمیل کرکے خوشی محسوس کرتا ہے،یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ میں وصال سے منع فرمایا ہے (یعنی سحری سے سحری تک روزہ رکھنا )جس کا معنی یہ ہوا کہ افطارکے وقت کھانا ضروری ہے،تو یہ کھانا اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری پر محمول ہوگا،جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے موجب اجر ہوگااور روزہ دار کیلئے باعثِ خوشی ۔ ویسے بھی اطاعت گذار بندے کا کھانا پینا اللہ تعالیٰ کی محبت ورضاء کا موجب ہے ، جس کی دلیل صحیح مسلم کی یہ حدیث ہے: [إن اللہ لیرضیٰ عن عبدہ أن یأکل الأکلۃ فیحمدہ علیھا ویشرب الشربۃ فیحمدہ علیھا ] ترجمہ:[بے شک اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے سے خوب راضی ہوتا ہے جو کھانا کھاکر اور پانی پیکر اس کی حمد وثناء بیان کرے ۔] تو افطار کا وقت روزہ دار کو کیوں نہ خوش کرے کہ وہ ایک عظیم عملِ اطاعت سے فارغ ہوا چاہتا ہے اور کھانا پینا شروع کررہا ہے ،اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی جاری ہے،تو یہ چیزبھی روزہ دارکی خوشی کا باعث بنتی ہے۔پھر اگر افطار کے موقع پر کھاتے پیتے ہوئے یہ نیت کرلے کہ بدن کچھ طاقت حاصل کرلے تاکہ رات کا قیام آسان اور ممکن ہوجائے تو یہ نیت اضافی طور پر موجب اجر ہوگی اور روزدار کی خوشی کا باعث بنے گی۔پھر ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ اس وقت کھانے پینے کا اجر روزہ کے اجر سے کچھ کم نہیں ہے، جس کی دلیل جامع ترمذی، مسندِ احمداور مستدرک حاکم وغیرہ میں ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی یہ صحیح حدیث ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:[الطاعم الشاکر بمنزلۃ الصائم الصابر ]یعنی کھانے پینے والا شکر گزار ،صبر کرنے والے روزہ دار جیسا ہے۔تو یہ چیز بھی روزہ دار کو خوش کردے گی کہ اس کا افطاری تناول کرنا روزہ ہی کی طرح باعث ِاجر ہے(یہ ثواب اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ اسکا کھانا پینا خالص حلال کا ہو) افطار کے وقت خوشی کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ یہ قبولیتِ دعا کا وقت ہے جسکی دلیل سنن ابن ماجہ کی یہ صحیح حدیث ہے :[ان للصائم عند فطرہ دعوۃ ما ترد]

  • فونٹ سائز:

    ب ب