کتاب: روزہ حقیقت و ثمرات - صفحہ 43

ایک جماعت کے ساتھ بیٹھا ہو،اس کے پاس مشک سے بھری ہوئی تھیلی ہو،جسکی خوشبو پھیلی ہواور وہ پوری جماعت اس سے محظوظ ہورہی ہو،اور روزہ دار کی خوشبوتو اللہ تعالیٰ کو کستوری سے زیادہ محبوب ہے ] نوٹ :اسی لئے بہت سے علماء نے دن کے آخری حصہ میں روزہ دار کا مسواک کرنا ناپسند کیا ہے ۔(وھو قول وجیہ،و اللہ اعلم) روزہ کی فضیلت میں د یگر ا حاد یث واضح ہو کہ روزہ کی فضیلت میں اور بہت سی احادیث وارد ہیں : عن أبی أمامۃ رضی اللہ عنہ قال :قلت یا رسول اللہ مرنی بعمل قال علیک بالصوم فانہ لاعد ل لہ ،قلت:یارسول اللہ مرنی بعمل قال:علیک بالصوم فانہ لاعدل لہ،:قلت یارسول صلی اللہ علیہ وسلم مرنی بعمل، قال:علیک بالصوم فانہ لاعدل لہ، (نسائی ،ابن خزیمہ ) ترجمہ:ابوامامۃ الباھلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،کہتے ہیں میں نے کہا:اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کسی عمل کا حکم فرمائیں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:[روزہ کو لازم پکڑ لو، کیونکہ اسکے مثل کوئی عمل نہیں]،میں نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کسی (اور) عمل کا حکم فرمائیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:[روزہ کو لازم پکڑ لو ،کیونکہ اس کے مثل کوئی عمل نہیں]،میں نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کسی (اور) عمل کا حکم فرمائیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:[روزہ کو لازم پکڑ لو،کیونکہ اسکے مثل کوئی عمل نہیں]

  • فونٹ سائز:

    ب ب