کتاب: روزہ حقیقت و ثمرات - صفحہ 45
متلاشی !آگے بڑھ ،اور اے شرکے متلاشی! اب تو باز آجا۔اور اللہ تعالیٰ ہر رات بہت سے لوگوں کو جہنم سے آزاد کردیتا ہے ) عن عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ قال:سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: [الصیام جنۃ من النار کجنۃ أحدکم من القتال](ابن خزیمہ:۳/۱۸۹۱) عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:(روزہ جہنم کی آگ سے کے خلاف ڈھال ہے،جیسے جنگ میں تم دشمن کے خلاف ڈھال استعمال کرتے ہو)(محققِ ابنِ خزیمہ نے اس حدیث کی سند کو حسن کہاہے) عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال سمعت رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: [الصیام جنۃ وحصن حصین من النار] ترجمہ:ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:(روزہ جہنم کی آگ سے بچانے کیلئے ایک مضبوط ڈھال اور محفوظ ترین قلعہ ہے)(احمد ،شعب الایمان للبیہقی ،امام منذری نے الترغیب والترھیب :۲/۸۳) میں مسند احمد کی سند کو حسن کہا ہے ) عن سھل بن سعد رضی اللہ عنہ قال:قال رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :[ان فی الجنۃ باب یقال لہ الریان،یدخل منہ الصائمون یوم القیامۃ ،لایدخل معھم احد غیرھم ،یقال :أین الصائمون؟ فیدخلون منہ فاذا دخل آخرھم أغلق ،فلم یدخل منہ أحد]