کتاب: روزہ حقیقت و ثمرات - صفحہ 47

روزہ کے فضائل کس طرح حاصل کیئے جائیں یہ ہمارے اس رسالے کا اہم ترین نکتہ ہے، گذشتہ صفحا ت میں روزہ کے فضائل، فوائد،محاسن اور بے شمار اجر وثواب کاذکر ہوا،اب سوال یہ ہے کہ ایک روزہ دار کس طرح بھرپور طریقے سے یہ تمام فضائل سمیٹ سکتاہے؟اس سوال کا بلکہ ہمارے لئے ہر سوال کا جواب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:{لَقَدْکَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ}(الاحزاب:۲۱) (تمہارے لئے ہرمعاملہ میں بہترین نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں) گویاروزہ جیسی انتہائی وقیع اور مھتم بالشان عبادت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے ضروری ہے کہ ہم روزہ کی حالت میں انہی امور پر توجہ مرکوز رکھیں جو رسولِ اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوئہ حسنہ سے ثابت ہیں،ان امور میں کثرتِ ذکر ،تلاوتِ قرآن،صدقہ وسخاوت ،کثرتِ دعاء اور قیام اللیل وغیرہ قابلِ ذکر ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ ہر بڑے اور چھوٹے گناہ سے مکمل احتراز واجتناب کیا جائے۔ہم ان امور کو قدرے تفصیل سے بیان کرتے ہیں ۔ روزہ اور تلاوتِ قرآن یہ بات معلوم ہے کہ قرآنِ حکیم کالوحِ محفوظ سے نزول رمضان کے مہینہ میں ہوا تھا،لقولہ تعالیٰ :{شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ أُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ} اور یہ نزول رمضان کی بابرکت رات لیلۃ القدر میں ہوا تھا ،لقولہ تعالیٰ:{إِنَّا أَنْزَلْنَاہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ} ولقولہ تعالیٰ:{إِنَّا أَنْزَلْنَاہُ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ } اوریہ بات بھی معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرغارِ حراء میں پہلی وحی کا نزول بھی رمضان کے مہینہ میں ہوا تھا ،مسند احمد کی ایک حدیث جو واثلہ بن اسقع کی روایت سے ہے یہ ثابت ہوتا ہے کہ توراۃ ،انجیل اور صحف ِابراھیمی کا نزول بھی رمضان المبارک میں ہوا، اس سے ثابت ہواکہ اللہ تعالیٰ کی وحی کا رمضان المبارک کے ساتھ ایک خصوصی تعلق ہے ؛یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ الصلاۃ والسلام کے ساتھ مکمل قرآنِ حکیم کا رمضان المبارک میں دور کیا کرتے تھے،اور فاطمہ رضی اللہ عنھا کی حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے سال دو بار دور کیا (صحیح بخاری ومسلم) عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور جبرائیل علیہ الصلاۃ والسلام کے مابین یہ دور ماہِ رمضان کی راتوں میں ہوتا

  • فونٹ سائز:

    ب ب